اسلام آباد: افغانستان کے سفارتخانے نے پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کی جبری بے دخلی سے متعلق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
افغانستان کے سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے افغان طلبہ کی تعلیمی پیش رفت اور مستقبل پر سنگین اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
بیان کے مطابق افغان طلبہ نے قانونی اور باقاعدہ طریقہ کار کے تحت پاکستان میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا تھا اور کئی سالوں کی محنت، وقت اور بھاری مالی و ذاتی سرمایہ کاری کے بعد وہ اپنے متعلقہ تعلیمی پروگرام مکمل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔
افغان سفارتخانے نے پاکستان کے تعلیمی حکام سمیت متعلقہ بین الاقوامی طبی، تعلیمی، انسانی حقوق اور پیشہ ورانہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور انہیں بغیر کسی رکاوٹ یا غیر ضروری مشکلات کے اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
سفارتخانے نے مزید زور دیا کہ علم، تعلیم اور انسانی تعلقات جیسے اہم شعبوں کو سیاسی اختلافات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ تعلیمی اور علمی مواقع کو سیاسی اختلافات یا موجودہ سیاسی حالات اور پیش رفت کی وجہ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے، جبکہ افغان طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔
12






