سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران، ایک ایرانی سرکاری طیارے کے سعودی دارالحکومت ‘ریاض’ پہنچنے پر خطے کی سیاست میں کئی اہم سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
اس اچانک دورے کے بعد سب سے اہم سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ایران، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری فوجی تنازع کو ختم کرنے کے لیے کوئی نیا اور سنجیدہ سفارتی حل پیش کرنے جا رہا ہے؟
پس منظر اور سعودی اثر و رسوخ: یہ دورہ اس لیے بھی حیران کن ہے کیونکہ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس سے قبل ‘آبنائے ہرمز’ کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان ایک اہم ملاقات طے تھی۔ تاہم، سعودی عرب نے دیگر عرب ممالک پر اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے عمان کے ذریعے وہ ملاقات منسوخ (Cancel) کروا دی تھی۔






