تہران: جنگ کے دوران ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا اور مجموعی قومی پیداوار میں 10 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایران کے شماریاتی مرکز کے مطابق مارچ کے آخر سے جون کے آخر تک کے عرصے میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 10.1 فیصد کمی ہوئی۔
یہ مدت ایرانی کیلنڈر کے پہلے مالی و معاشی سہ ماہی کے طور پر جانی جاتی ہے، یہ معاشی سکڑاؤ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جنگی صورتحال نے ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کا آغاز فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا، جس کے بعد خطے میں وسیع پیمانے پر بے یقینی پیدا ہوئی اور ایران کی اقتصادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے دوران ایران کو نہ صرف سکیورٹی اور سیاسی دباؤ کا سامنا رہا بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی نمایاں ہوئے۔
تہران کے تاریخی گرینڈ بازار سمیت ملک کے مختلف تجارتی مراکز میں کاروباری سرگرمیاں بھی جنگی حالات اور معاشی دباؤ سے متاثر ہوئی ہیں۔
ایرانی شماریاتی مرکز کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 10.1 فیصد سالانہ کمی اس عرصے کے دوران معیشت کو پہنچنے والے بڑے نقصان کی عکاسی کرتی ہے۔






