رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں حوثیوں کے خلاف حملوں کے مختلف ممکنہ آپشنز پر غور کیا۔ تاہم، امریکی حکام کی جانب سے کسی حتمی فوجی فیصلے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، سعودی حکام کے مطابق ریاض کی جانب آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو روک لیا گیا، جبکہ حوثیوں نے سعودی دارالحکومت میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ اور خطے میں قائم امریکی سفارتی مشنز نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے، امریکی شہریوں کو ممکنہ فضائی پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفری رکاوٹوں کے حوالے سے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی حکام نے خطے میں موجود شہریوں کو زیادہ محتاط رہنے جبکہ مشرقِ وسطیٰ کا سفر کرنے والے یا سفر کا ارادہ رکھنے والے امریکی شہریوں کو اپنے سفری منصوبوں پر سنجیدگی سے نظرِثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے، الرٹ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق، لبنان، اسرائیل سمیت خطے کے متعدد ممالک کا حوالہ دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق خطے کی سکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہے اور موجودہ فوجی کشیدگی تیزی سے مزید بڑھ سکتی ہے، امریکی شہریوں کو مقامی امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کی تازہ ہدایات پر عمل کرنے اور سفر سے قبل پروازوں کی صورتحال جانچنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔






