3

گورنر راج کا نفاذ آئین پاکستان کا حصہ ہے، اسے غیر آئینی اقدام قرار دینا درست عمل نہیں ہے،خالق اچکزئی

اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی نے کہاہے گورنر راج کا نفاذ آئین پاکستان کا حصہ ہے، اسے غیر آئینی اقدام قرار دینا درست عمل نہیں ہے جب صوبائی حکومت اپنے فرائض موثر انداز میں انجام دینے میں قاصر ہو تو وہاں آئینی تقاضوں کے مطابق گورنر راج کے نفاذ حکام زیر غور لایا جاسکتا ہے انہوں نیکہا کہ موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی اور حکومتی امور چلانے کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں.دہشت گردی جیسے ناسور سے نمٹنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا ہم آہنگ نہ ہونا لیکن جب ایسے سنگین حالات میں صوبائی حکومت کی جانب سے عدم تعاون کا مظاہرہ کیا جائے تو گورنر راج جیسے آئینی اقدام پر غور ناگزیر ہو جاتا ہے، اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ عبد الخالق اچکزئی نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے کو آئینی اور قانونی تناظر میں دیکھنا چاہیے، اسے محض سیاسی تنقید کا موضوع نہ بنایا جائے،بلوچستان میں بھی 2013 میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، اس لیے گورنر راج کی بات کرنا کوئی انہونی بات نہیں ہے انہوں نے اس تناظر میں کہاکہ گورنر راج آئین میں موجود ایک انتظامی و آئینی طریقہ کار ہے، اس پر سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے، مگر اسے تنقید کی بنیاد بنا کر غیر معمولی معاملہ قرار دینا مناسب نہیں، صوبائی حکومتوں کی اولین ذمہ داری عوام کو انتظامی استحکام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہیآئینی معاملات پر بحث سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حقائق اور آئین کی روشنی میں ہونی چاہیے، ۔کسی بھی صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ آئین میں درج طریقہ کار اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں