
(ویب ڈیسک) یوکرین کی جانب سے روس کی اہم ترین آبی گزرگاہ کو بند کیے جانے کے بعد ماسکو کے لیے بحیرہ اسود میں ‘آبنائے ہرمز’ طرز کا سنگین ترین معاشی اور عسکری بحران سر اٹھانے لگا ہے۔
یوکرائنی فوج کے تابڑ توڑ حملوں کے باعث روس کی بحیرہ اسود پر گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے جس نے کریملن کو اس ہفتے اپنی اہم ترین تجارتی شاہراہ پر بحری ٹریفک معطل کرنے پر مجبور کر دیا ہے,اس بندش سے روس کی باقی دنیا کے ساتھ تجارت کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔
یہ پیش رفت روس کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے کیونکہ بحیرہ ازوف (Sea of Azov) برسوں تک یوکرائنی فوج کی پہنچ سے دور رہا تھا جس کے باعث روس اسے یوکرین پر حملوں کے لیے ایک آسان لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرتا رہا اور اسی راستے سے جنوبی روس کے وسیع علاقوں کو عالمی سمندروں سے جوڑتا تھا۔
ڈرون ٹیکنالوجی نے پانسہ پلٹ دیا: 9 دنوں میں 116 روسی بحری جہاز نشانہ
یوکرین کی جانب سے ڈرون پروگرام میں کی جانے والی حالیہ انقلابی پیش رفت نے جنگ کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ یوکرین کی ‘ان مینڈ سسٹم فورسز’ (Unmanned Systems Forces) کے کمانڈر رابرٹ بروودی نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ کیف نے صرف گزشتہ 9 دنوں کے دوران بحیرہ ازوف میں 116 روسی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ماضی میں ایسے حملے زیادہ تر روس کے خفیہ بحری بیڑے (Shadow Fleet) اور جنگی جہازوں تک محدود تھے تاہم حالیہ ویڈیوز میں یوکرائنی ڈرونز کو براہ راست روسی جہازوں کو تباہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
روس نے اہم ترین تجارتی راستے بند کر دیے
یوکرائنی ڈرونز کے مسلسل اور بے رحم حملوں کے خوف سے روس نے بحیرہ ازوف کے دو انتہائی اہم ترین راستے بند کر دیے ہیں؛
ڈان ازوف چینل جو سمندر کو روس کے اندرونی آبی راستوں سے جوڑتا ہے۔
آبنائے کرچ (Kerch Strait): جو بحیرہ ازوف کو بحیرہ اسود سے ملاتی ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی سروسز کے مطابق اس بندش کے باعث سمندر کے دونوں اطراف روسی مال بردار جہازوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ چکی ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں گندم کا بحران اور اربوں ڈالر کا نقصان
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ گندم اور سورج مکھی کے تیل جیسی بنیادی خوراک کی برآمدات بھی شدید متاثر ہوں گی،امریکہ کے ‘انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار’ کے مطابق، یوکرین کا مقصد مقبوضہ کریمیا کو روسی لاجسٹک نیٹ ورک سے بالکل کاٹنا ہے۔
یاد رہے کہ روس دنیا میں گندم برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور عالمی برآمدات کا پانچواں حصہ اسی کے پاس ہے۔ زرعی ماہر آندری سیزوف کا کہنا ہے کہ:
“گندم کی منڈی کے لیے بحیرہ اسود کی وہی اہمیت ہے جو خام تیل کے لیے خلیج فارس کی ہے اگر یہ بحران برقرار رہا تو روس کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑے گا۔”
اس بحران کے باعث عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں فوری طور پر تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ روس کا دعویٰ ہے کہ وہ متبادل بندرگاہوں سے گندم بھیج سکتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق دیگر بندرگاہوں میں اتنی گنجائش ہی موجود نہیں ہے۔
روس برہم: “یہ یوکرین کی بحری قزاقی اور دہشت گردی ہے”
دوسری جانب یوکرائنی حملوں پر روسی قیادت شدید آگ بگولا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا:
“بحیرہ ازوف میں کیف کی یہ مہم بحری قزاقی سے بھی بدتر ہے۔ قزاق تو کم از کم لوٹ مار کر کے مال اپنے پاس رکھتے ہیں، لیکن یہاں یوکرین کا مقصد صرف نقصان پہنچانا اور ڈرانا ہے۔ یہ خالصتاً دہشت گردی ہے۔”
روسی الزامات کے جواب میں یوکرائنی حکام کا موقف ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت صرف روسی فوجی اہداف اور جنگی سپلائی لائنز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم، یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب جنوبی روس کے علاقے روسٹوو میں گندم کی کٹائی کا سیزن شروع ہو چکا ہے، جس سے روس کی معیشت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حوثی لیڈر کی باب المندب بند کر کے تیل کی قیمت 200ڈالر فی بیرل کروانےکی دھمکی






