4

عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں ادارہ جاتی اختلافات اور معاوضے کی ادائیگی سے متعلق معاملات کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ،
بلوچستان ہائیکورٹ نے سمنگلی روڈ کی توسیع کے منصوبے میں پیش آنے والی رکاوٹوں کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اراضی کے معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر کو منصوبے کی پیش رفت روکنے کا جواز نہ بنایا جائے اور کوئٹہ کے شہریوں کی وسیع تر سہولت کے پیش نظر توسیعی کام جاری رکھا جائے۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست نمبر 824/2016 کی سماعت کے دوران منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ سماعت کے موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے مشیر اور ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر سمیت متعلقہ حکام اور وکلا پیش ہوئے اور عدالت کو پیش رفت و تعمیل رپورٹس سے آگاہ کیا۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ زرغون روڈ پر اسفالٹک ویئرنگ کورس کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ سائن بورڈز کی تنصیب جاری ہے۔ بعض مقامات پر سائن بورڈز کی تنصیب کا کام ٹھیکیدار کی جانب سے مطلوبہ سامان فراہم کیے جانے کے بعد مکمل کر لیا جائے گا۔ عدالت کو مزید بتایا گیا کہ یک طرفہ ٹریفک کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے یو ٹرنز پر اسپائکس نصب کیے جا رہے ہیں، جن کی تکمیل کے لیے 30 اکتوبر 2026ء کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔سمنگلی روڈ کی توسیع کے حوالے سے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کام جاری ہے، تاہم کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کی جانب سے مطلوبہ تعاون نہ ملنے کے باعث سڑک کو مجوزہ چوڑائی تک وسیع کرنے کا کام شروع نہیں ہو سکا۔ فی الحال ان حصوں پر کام کیا جا رہا ہے جہاں اضافی اراضی کے حصول کی ضرورت نہیں ہے۔کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل نے تعمیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دستیاب اراضی پر ضرورت کے مطابق کام کیا گیا ہے اور توسیعی کام کو روکا نہیں گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سمنگلی روڈ کی توسیع کے لیے درکار اضافی اراضی کے معاوضے کا تخمینہ لگانے کے معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں معاوضے کی رقم کا تخمینہ جلد از جلد مرتب کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ سمنگلی روڈ کی توسیع جیسے عوامی اہمیت کے منصوبے میں متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے اختلافات کیوں برقرار ہیں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے کوئٹہ کے شہریوں کی سہولت کے لیے سڑکوں کی توسیع پر کام کر رہی ہے، جبکہ سمنگلی روڈ کی توسیع سے کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے اور وہاں قائم رہائشی آبادیوں کے مکین بھی مستفید ہوں گے۔
عدالت نے قرار دیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں ادارہ جاتی اختلافات اور معاوضے کی ادائیگی سے متعلق معاملات کو ترقیاتی کاموں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عوامی مفاد کو مقدم رکھیں اور باہمی تعاون کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ سرکاری اداروں کے عہدیدار ریاست اور عوام کے خادم ہیں، اس لیے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذاتی یا ادارہ جاتی مفادات کے بجائے عوامی سہولت اور وسیع تر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ موجودہ مالی مشکلات کے تناظر میں دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ترقیاتی بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی اور وفاقی سطح پر متعلقہ حکام کا اجلاس طلب کریں تاکہ سمنگلی روڈ کی توسیع کے حوالے سے اراضی کے حصول، معاوضے کی ادائیگی اور دیگر متعلقہ امور پر اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے. عدالت نے واضح کیا کہ کوئٹہ کے شہریوں کے وسیع تر مفاد میں سمنگلی روڈ کی توسیع کا کام محض معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث معطل نہیں ہونا چاہیے۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ ضروری اقدامات کرتے ہوئے منصوبے پر کام جاری رکھیں اور اس سلسلے میں تعمیلی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔عدالت نے حکم نامے کی نقل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کے ذریعے چیف سیکرٹری بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے پرنسپل سیکرٹری کو اطلاع اور عمل درآمد کے لیے ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
کیس کی مزید سماعت 5 نومبر 2026ء کو ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں