خ
کوئٹہ،
بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ شہر میں غیر قانونی اور بغیر روٹ پرمٹ چلنے والے رکشوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے، ضبط کیے گئے جعلی پرمٹس کے معاملے پر پیش رفت اور رکشوں کے روٹ پرمٹس کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو کارروائی میں تیزی لانے اور پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 8 اکتوبر 2026ء کو دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ نے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کوئٹہ کی معاونت سے متعلقہ رپورٹ عدالت میں پیش کی۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ کے احکامات کی تعمیل میں 20 ستمبر 2026ء کو سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ کے دفتر میں رکشہ یونین کے نمائندوں اور ان کے قانونی مشیر کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں رکشہ یونین کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں نئے ڈپلیکیٹ پرمٹس کے اجرا کے لیے رکشوں پر سرخ رنگ کی مارکنگ ختم کرنے، غیر قانونی طور پر تحویل میں لیے گئے رکشوں کو نیلامی کے بجائے مناسب قانونی طریقہ کار کے تحت تلف یا اسکریپ کرنے اور موجودہ پرمٹ ہولڈرز کی بائیومیٹرک تصدیق سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔ رپورٹ کے مطابق رکشہ یونین کے نمائندوں اور ان کے وکیل نے مجوزہ اقدامات سے اتفاق کیا اور مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کرنے پر اتفاق رائے پایا گیا۔عدالت کو مزید بتایا گیا کہ آر ٹی اے کوئٹہ نے ٹریفک پولیس کے تعاون سے 12 ستمبر سے 6 اکتوبر 2026ء تک شہر کے مختلف مقامات پر غیر قانونی اور بغیر پرمٹ چلنے والے رکشوں کے خلاف کارروائیاں کیں، جن کے دوران موٹر وہیکل آرڈیننس 1965ء کی خلاف ورزی پر 27 رکشے ضبط کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف چھاپوں کے دوران رکشوں کے 10 جعلی پرمٹس بھی تحویل میں لیے گئے، جبکہ اس نوعیت کی کارروائیاں جاری ہیں اور مزید پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ رکشوں کے دستی روٹ پرمٹس کو کمپیوٹرائز کرنے کے عمل کے تحت اب تک مجموعی طور پر 9,222 روٹ پرمٹس کمپیوٹرائز کیے جا چکے ہیں۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل ظفر اقبال محمد حسنی اور شاہ رسول نے مؤقف اختیار کیا کہ آر ٹی اے حکام کے ساتھ ہونے والا اجلاس نتیجہ خیز رہا اور متعدد تجاویز پر غور کیا گیا، تاہم متعلقہ سرکاری حکام کو اقدامات میں تیزی لانے اور عدالت میں پیش رفت کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جائے۔
عدالت نے معاملے پر مزید کارروائی کے لیے آئینی درخواست نمبر 230/2026 کو آئینی درخواست نمبر 1951/2022 کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم دیا۔
2






