4

تیل کی قیمتیں؟ چیئرمین اوگراکااہم بیان آگیا

(اویس کیانی ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت ہوا، جس میں اوگرا، پی ٹی اے اور متعلقہ حکام نے مختلف امور پر بریفنگ دی۔
 چیئرمین اوگرا بیرسٹر نبیل اعوان نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے جعلی کلیمز اور تیل کے ذخائر سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ قیمتوں میں اضافے کے دوران ذخیرہ اندوزی کا رجحان سامنے آتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے بتایاکہ سروس کی خراب کوالٹی پر پی ٹی اے نے چار ارب کے جرمانے کئے ہیں، سینیٹر سعدیہ عباسی نے بتایاکہ سروسز کی فراہمی کی راہ میں لوڈشیڈنگ اور امن و امان کی صورتحال رکاوٹ ہے۔
 چیئرمین پی ٹی اے نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ہماری 9000 سائٹس پر چوری کی وارداتیں ہوئی ہیں،حکومت ہمیں شہریوں کو پیسے واپس کرنے کا کہتی ہے، اگر شہری نے پیکج کروایا اور سروسز بند ہونے کی وجہ سے استعمال نہیں ہوا تو ہمیں پیسے واپس کرنے کا کہا جاتا ہے۔ 
 چیئرمین اوگرا نبیل اعوان نے قائمہ کمیٹی میں اعتراف کیاکہ قیمتیں بڑھتی ہیں تو ذخیرہ اندوزی لازمی ہے،ٹینکرز کو قیمتیں بڑھنے پر ہدایت کی جاتی ہے کہ موٹروے کی حدود سے باہر جا کر کھڑے ہو جائیں،او ایم سیز نے 35 دنوں کا اسٹاک خرید کر اب بھی غائب کیا ہوا ہے۔
ایران سے تیل خریدنے کا معاملہ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ میں پہنچ گیا، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے استفسارکیاکہ حکومت ایران سے تیل کیوں نہیں خرید رہی ؟ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایاکہ ایران پر پھر پابندیاں لگ گئی ہیں، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ اس معاملے کو ہم قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم میں اٹھائیں گے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سینیٹر عبدالقادر کی جانب سے سول سروسز میں بلوچستان کا کوٹہ بڑھانے کے بل کی مخالفت کی۔
 چیئرمین پی ٹی اے نے کہاکہ پی ٹی اے کے لیے ملک میں فائیو جی سروس شہریوں تک پہنچانا مزید مشکل ہو گیا،5 جی آکشن میں کامیاب ہونے والی کمپنی نے اپنے ٹاورز دوسری کمپنیوں کو بیچ دئیے ہیں،چیئرمین پی ٹی اے نے رائٹ آف وے کے حوالے کے متنازعہ بل کے حوالے سے بڑا انکشاف کر دیا۔
ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں متنازعہ ترامیم کا بل کون لایا؟ پی ٹی اےاس سے لاعلم نکلا،چیئرمین پی ٹی اے نے کہاکہ میں نے ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترمیم کا بل سوشل میڈیا پر دیکھا، میں نے اپنے اسٹاف سے پوچھا اس بل میں ہمارا کیا کردار ہے؟  نمائندہ ٹیلی کام کمپنی نے بتایاکہ انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے سروس کوالٹی نہیں ہے،کراچی میں سروس کی کوالٹی کی ضرورت ہے، مرکزی جگہوں پر انفراسٹرکچر نہیں لگایا جا سکتا۔ 
سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہاکہ پرائیویٹ پراپرٹی کو زبردستی شہریوں سے نہیں لیا جا سکتا، شہریوں کے ساتھ زبردستی کو جسٹیفائی نہیں کیا جائے۔
 قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سیکریٹری آئی ٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دے دی،ٹیلی کام سیکٹر کے لئے بلا تعطل توانائی کی فراہمی کا پلان تیار کیا جائے گا،اعلیٰ سطح کمیٹی تین ماہ میں رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی مالی مشکلات فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ
 چیئرمین پی ٹی اے نے بتایاکہ ای سم دس مرتبہ مفت دوسرے موبائل پر منتقل کی جا سکتی ہے،ای سم کی قیمت 1500 روپے تک مقرر ہو جائے گی،ایک مرتبہ طلب بڑھے گی تو ای سمز کی قیمتیں کم ہو جائیں گی، موبائل پر ٹیکس عائد کرنے میں پی ٹی اے کا کوئی کردار نہیں ہے،موبائل پر ٹیکس عائد کرنا ایف بی آر کا دائرہ اختیار ہے،ڈھائی کروڑ موبائل سالانہ پاکستان میں تیار کئے جا رہے ہیں،موبائل فونز پر ٹیکس زیادہ ہو گا تو فائیو جی کے استعمال میں مسائل ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں