کوئٹہ، معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بی این پی مینگل کے ترجمان کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو سردار اختر مینگل فوبیا ہوگیا ہے۔شاہد رند نے اپنے سخت ردعمل میں کہا کہ ترجمان بی این پی اور پارٹی سیکریٹری اطلاعات کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ چیف منسٹر بلوچستان کو کوئی بی این پی فوبیا نہیں ہے، البتہ اپنی ہر تقریر میں یاد کرنے کا ٹھیکہ سردار اختر مینگل نے لیا ہوا ہے۔ اس سے عوام اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسے فوبیا ہوا ہے اور کون سیاسی فرسٹریشن کا شکار ہے۔ سرفراز بگٹی نے گزشتہ ڈھائی سالوں میں، جب تک بی این پی مینگل کی جانب سے ان پر بیانات جاری نہیں ہوئے، انہوں نے بی این پی مینگل یا نام نہاد قوم پرست سردار کے خلاف اپنی طرف سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ البتہ یہ سرفراز بگٹی کا واضح موقف ہے کہ جب بھی کوئی اپنی سرداری سے مرعوب کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے اس کی زبان میں جواب دیا جائے گا۔ چند روز قبل بھی جو مغلظات استعمال کی گئیں، جو گھٹیا گفتگو ایک نام نہاد سردار و قوم پرست کی جانب سے کی گئی، ان کی زبان میں اس کا جواب دیا جاسکتا تھا، تاہم ان کے اور ہمارے ظرف میں یہ فرق ہے کہ اس کا جواب بھی ہم نے سیاسی انداز میں دیا۔اور جس مقبولیت کا دعویٰ بی این پی کے ترجمان اپنے نام نہاد سردار اور قوم پرست رہنماء کے لیے کررہے ہیں، ان کی مقبولیت کا پیمانہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبے بھر کی مقبولیت کا دعویٰ کرنے والی جماعت خضدار قومی اسمبلی کی نشست جمعیت علماء اسلام کی حمایت کے بغیر نہیں جیت سکتی۔ 2013 میں جب جمعیت علمائے اسلام نے نیشنل پارٹی سے اتحاد کیا تو موصوف کی جماعت قومی اسمبلی کی نشست نہیں جیت سکی۔ جب 2018 میں جمعیت علمائے اسلام نے بلوچستان نیشنل پارٹی سے اتحاد کیا، تب جاکر انہیں قومی اسمبلی کی نشست مل سکی۔ 2018 میں جہاں وفاق میں تحریک انصاف فیض یاب ہوئی، وہاں بلوچستان میں فیضیاب ہونے والی جماعت موصوف نام نہاد قوم پرست سردار کی تھی۔ 2018 سے پہلے کون سے ایسے الیکشن تھے جس میں اس جماعت کو اتنا بھاری مینڈیٹ فیضیاب ہوئے بغیر ملا ہو؟ اس کے بعد وہ خود اندازہ لگائیں کہ وہ صوبے میں کتنی مقبول جماعت ہیں، اور مقبولیت کا دعویٰ کرنے والی اس جماعت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ 2018 میں جب تحریک انصاف بینیفشری تھی تو صوبے میں بلوچستان نیشنل پارٹی تھی۔ اس سے پہلے یا بعد میں اسے کبھی اتنی نشستیں اگر اس جماعت کے حصے میں آئی ہیں تو الیکشن کمیشن کا ریکارڈ چیک کرلیں، وہ ترجمان بی این پی کا منہ چڑانے کے لیے کافی ہیں۔لاپتہ افراد کے حوالے سے جنرل ریٹائرڈ باوجودہ کو ووٹ دے کر کریڈٹ سمیٹنے اور گناہ چھپانے کی کوشش کرنے والی جماعت، جام کمال خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو گناہ اور ثواب کا کھیل بنانے والی جماعت، یہ بتائے کہ جن پانچ سو افراد کو چھڑایا تھا، وہ پانچ سو افراد اس وقت کدھر ہیں؟ کیا وہ اپنے اپنے گھروں میں ہیں یا واپس انہی دہشت گردوں کے کیمپوں میں چلے گئے ہیں جہاں سے انہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار کرکے لائے تھے؟ شاہد رند نے کہا کہ ان سوالات کے جوابات آج کے انقلابی نام نہاد قوم پرست سردار کے پاس ہیں تو عوام کو بتائیں۔
3






