
اکیسویں صدی کی پہلی دہائی پاکستان میں ذرائع ابلاغ کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ نجی الیکٹرانک میڈیا کے قیام اور اس کی تیز رفتار توسیع نے نہ صرف اطلاعات کی ترسیل کے طریقۂ کار کو تبدیل کیا بلکہ ریاست، سیاست اور معاشرے کے باہمی تعلقات کو بھی بنیادی طور پر متاثر کیا۔ پہلی مرتبہ عوام کو سرکاری بیانیے سے ہٹ کر مختلف ذرائع سے خبریں، تجزیے اور آراء میسر آئیں۔ اصولی طور پر یہ پیش رفت جمہوری ارتقا کے لیے ایک مثبت قدم تھی، کیونکہ آزاد میڈیا کو ہر جمہوری معاشرے میں احتساب، شفافیت اور آزادیٔ اظہار کا بنیادی ستون تصور کیا جاتا ہے۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس مثبت تبدیلی نے ایک ایسے رجحان کو بھی جنم دیا جس نے صحافت اور سیاست کے درمیان موجود فاصلہ بتدریج دھندلا دیا۔ بعض نمایاں ٹیلی ویژن اینکرز اور سیاسی تجزیہ کاروں نے عوام کو معلومات فراہم کرنے اور حکومتوں کا احتساب کرنے کے روایتی کردار سے آگے بڑھ کر خود کو ریاستی پالیسی سازی کے غیر رسمی مراکزِ اثر و رسوخ کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ نتیجتاً یہ تاثر ابھرنے لگا کہ حکومتوں کی تشکیل، سیاسی اتحادوں کی سمت، قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، عدالتی معاملات، عسکری حکمتِ عملی اور حتیٰ کہ معاشی نظم و نسق جیسے معاملات میں بھی ان کی آراء فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔ اس رجحان نے صحافت کے بنیادی فلسفے اور اس کے پیشہ ورانہ دائرۂ کار کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دیا۔
صحافت کا بنیادی مقصد اقتدار کا استعمال نہیں بلکہ اقتدار کا احتساب ہے۔ ایک صحافی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اہم سوالات اٹھائے، حقائق کی تحقیق کرے، عوام کو درست معلومات فراہم کرے اور ریاستی اداروں کی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لے۔ صحافت کی ساکھ اس کی فکری آزادی، علمی دیانت اور پیشہ ورانہ غیر جانب داری پر قائم ہوتی ہے۔ لیکن جب صحافی خود کو ریاستی معاملات کا حتمی فیصلہ ساز سمجھنے لگے تو وہ اپنے پیشہ ورانہ کردار سے تجاوز کرتے ہوئے ایک سیاسی کردار اختیار کر لیتا ہے۔ اسی مقام پر صحافت اور اقتدار کے درمیان ضروری فاصلہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور صحافت اپنی اخلاقی برتری کھونے لگتی ہے۔
پاکستان میں وقت گزرنے کے ساتھ بعض ٹیلی ویژن اینکرز کے گرد شخصیت پر مبنی صحافت کا ایک رجحان فروغ پانے لگا۔ ان کے پروگرام محض سیاسی تجزیے کے فورم نہیں رہے بلکہ انہیں سیاسی اثر و رسوخ کے مراکز کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ سیاست دان ان پروگراموں میں شرکت کو اپنی سیاسی ضرورت سمجھنے لگے، جبکہ بعض ریاستی ادارے بھی انہیں عوامی رائے کی تشکیل میں ایک مؤثر عنصر تصور کرنے لگے۔ اس ماحول نے بعض صحافیوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ وہ محض سیاسی واقعات کے مبصر نہیں بلکہ ان کے تشکیل دینے والے کردار بھی ہیں۔
یہ رجحان صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی میڈیا شخصیات نے غیر معمولی عوامی اثر و رسوخ حاصل کیا ہے۔ تاہم مضبوط جمہوری نظاموں میں صحافی اور پالیسی ساز کے کردار کے درمیان ایک واضح حد برقرار رکھی جاتی ہے۔ صحافی حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید ضرور کرتے ہیں، لیکن وہ خود کو ریاستی فیصلوں کا متبادل مرکز نہیں سمجھتے۔ یہی فرق ذمہ دار صحافت اور سیاسی سرگرمی کے درمیان بنیادی امتیاز پیدا کرتا ہے۔
پاکستان کے میڈیا منظرنامے میں بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگر حکومت یا ریاستی ادارے بعض معروف اینکرز کی تجاویز کے مطابق فیصلے نہ کریں تو گویا وہ قومی مفاد کے خلاف جا رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی، قومی سلامتی، عدالتی اصلاحات، عسکری حکمتِ عملی، معاشی پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات جیسے نہایت پیچیدہ موضوعات پر بعض اوقات ایسی قطعیت کے ساتھ اظہارِ خیال کیا جاتا تھا جیسے ان تمام مسائل کا حتمی حل ایک گھنٹے کے ٹی وی ٹاک شو میں نکالا جا سکتا ہو۔ حالانکہ ان شعبوں میں پالیسی سازی برسوں کی علمی تحقیق، ادارہ جاتی مہارت، عملی تجربے اور مختلف شعبوں کے ماہرین کی مشاورت کا تقاضا کرتی ہے۔
ہر جدید ریاست میں پالیسی سازی بنیادی طور پر ایک اجتماعی اور ادارہ جاتی عمل ہے۔ خارجہ پالیسی سفارت کاروں، علاقائی ماہرین، انٹیلی جنس اداروں، معاشی مشیروں اور منتخب سیاسی قیادت کی باہمی مشاورت سے تشکیل پاتی ہے۔ قومی سلامتی کے فیصلوں میں عسکری قیادت، سول حکومت، سفارتی ماہرین اور قانونی مشیر شریک ہوتے ہیں، جبکہ عدالتی اصلاحات آئینی اصولوں، قانونی روایات اور عدالتی نظائر کی روشنی میں مرتب کی جاتی ہیں۔ اس نوعیت کے پیچیدہ معاملات کا فیصلہ محض ٹیلی ویژن مباحث یا انفرادی آراء کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔
ایک اور اہم رجحان بعض میڈیا شخصیات کے گرد “کنگ میکر” کے غیر رسمی تصور کا فروغ تھا۔ ایسا تاثر پیدا ہوا کہ حکومتوں کی تشکیل یا برطرفی، سیاسی اتحادوں کی تشکیل اور حتیٰ کہ ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنا بھی میڈیا کے سیاسی کردار کا حصہ ہے۔ اگرچہ یہ تاثر ہمیشہ حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا تھا، تاہم اس کے فروغ نے صحافتی غیر جانب داری کے حوالے سے جائز سوالات ضرور پیدا کیے۔ جب صحافی غیر جانب دار مبصر کے بجائے خود سیاسی عمل کا حصہ بن جائے تو عوام کا اس کی معروضیت پر اعتماد متاثر ہونا فطری امر ہے۔
اس رجحان کو فروغ دینے والا ایک اہم عنصر پاکستان میں شخصیت پر مبنی صحافت (Celebrity Journalism) کا ابھرنا بھی تھا۔ صحافت بتدریج اداروں کے بجائے شخصیات کے گرد گھومنے لگی۔ ٹیلی ویژن پروگراموں کی مقبولیت ان کے مواد کے بجائے اینکرز کی ذاتی شہرت سے وابستہ ہونے لگی۔ نتیجتاً بعض صحافی خود کو خبر سے زیادہ اہم سمجھنے لگے۔ اگرچہ یہ رجحان دنیا کے دیگر ممالک میں بھی دیکھا گیا ہے، تاہم مضبوط جمہوری معاشروں میں ادارہ جاتی معیارات اور پیشہ ورانہ اصول اسے صحافت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچانے سے روک لیتے ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا نے اس پورے منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اب معلومات کی ترسیل صرف ٹیلی ویژن نیٹ ورکس تک محدود نہیں رہی۔ یوٹیوب، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، فیس بک، پوڈکاسٹس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے معلومات اور عوامی مکالمے کو جمہوری بنا دیا ہے۔ آج صحافی، محققین، سرکاری ادارے اور عام شہری سب اپنی بات براہِ راست عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس تبدیلی نے روایتی ٹیلی ویژن اینکرز کے غیر معمولی اثر و رسوخ کو نمایاں حد تک محدود کر دیا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں کسی بھی صحافی یا تجزیہ کار کی ساکھ اب اس کے ٹیلی ویژن پلیٹ فارم، ادارہ جاتی وابستگی یا ذاتی شہرت سے نہیں بلکہ اس کے دلائل، شواہد، علمی دیانت اور تجزیاتی صلاحیت سے متعین ہوتی ہے۔ غلط یا کمزور تجزیوں کا چند ہی لمحوں میں تنقیدی جائزہ لیا جا سکتا ہے، جبکہ جانبدار یا غیر مصدقہ آراء کو متعدد متبادل ذرائع کے ذریعے چیلنج کیا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے ڈیجیٹل میڈیا نے صحافت کو ایک نئی عوامی جوابدہی سے روشناس کرایا ہے۔
تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ہر معروف اینکر ہمیشہ خود کو پالیسی ساز سمجھتا رہا یا اس کے تمام تجزیے غیر ذمہ دارانہ تھے۔ پاکستان کے بہت سے صحافیوں نے جمہوریت، عدلیہ کی آزادی، انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار کے فروغ میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بعض اوقات چند بااثر میڈیا شخصیات کے بیانات اور طرزِ عمل سے یہ تاثر ضرور پیدا ہوا کہ وہ صرف سیاسی واقعات کی تشریح نہیں کر رہے بلکہ ریاستی پالیسی کی سمت پر بھی اثر انداز ہونا چاہتے ہیں۔ اس رجحان کا علمی اور تنقیدی جائزہ ایک صحت مند جمہوری نظام کی ناگزیر ضرورت ہے۔
بالآخر صحافت کی اصل طاقت سیاسی اثر و رسوخ میں نہیں بلکہ عوامی اعتماد میں مضمر ہوتی ہے۔ ایک صحافی کا سب سے قیمتی سرمایہ عوام کا اعتماد ہے، اور یہ اعتماد اسی صورت برقرار رہ سکتا ہے جب وہ اقتدار سے مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے حقائق، تحقیق اور پیشہ ورانہ غیر جانب داری کو اپنی شناخت بنائے۔ جب صحافت سیاسی طاقت کے حصول کی خواہش میں مبتلا ہو جائے تو وہ اپنی اخلاقی برتری کھو دیتی ہے، جبکہ اقتدار کا آزادانہ احتساب کرنے والی صحافت جمہوریت کو مضبوط بناتی ہے۔
مستقبل کے تناظر میں پاکستان کے میڈیا کو شخصیت پرستی کے بجائے ادارہ جاتی صحافت کو فروغ دینا ہوگا۔ تحقیقی رپورٹنگ، شواہد پر مبنی تجزیے اور مختلف شعبوں میں تخصص کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خارجہ امور، معیشت، آئینی قانون، قومی سلامتی، ماحولیاتی پالیسی اور نئی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں مہارت رکھنے والے صحافی جدید صحافت کا لازمی تقاضا بن چکے ہیں۔ عمومی سیاسی تبصرے اب علمی مہارت کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
آخر میں، صحافت اور اقتدار کے درمیان واضح حد قائم رکھنا ایک آزاد، ذمہ دار اور معتبر میڈیا کے لیے ناگزیر ہے۔ صحافی کا منصب حکومت چلانا، ریاستی پالیسیاں تشکیل دینا یا اقتدار کا حصہ بننا نہیں، بلکہ اقتدار سے سوال کرنا، عوامی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ لینا اور معروضی رپورٹنگ کے ذریعے عوامی مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔ ڈیجیٹل عہد نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ کسی صحافی کی اصل حیثیت اس کے ٹیلی ویژن سٹوڈیو، ادارہ جاتی اثر و رسوخ یا ذاتی شہرت سے نہیں بلکہ اس کی علمی دیانت، پیشہ ورانہ ذمہ داری، تجزیاتی صلاحیت اور عوام کے اعتماد سے متعین ہوتی ہے۔ یہی اوصاف صحافت کو اس کے حقیقی منصب، یعنی حقائق کی غیر جانب دارانہ تلاش، جمہوری احتساب اور ایک باشعور معاشرے کی تشکیل، کی طرف واپس لے جا سکتے ہیں۔






