سوئی سدرن گیس کمپنی کے اعلی حکام کے ساتھ کنزیومر سول سوسائٹی کے 20 رکنی وفد کی دو گھنٹے طویل مذاکرات
میٹنگ کے دوران سوسائٹی کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ
1،گیس کا دورانیہ رات 12 بجے تک بڑھایا جائے
2،دو ئم یہ کہ جو ناجائز اضافی بل بھیجے گئے ہیں ان سب کو منسوخ کر کے نئے جائز بل بنا کر بھیجے جائیں
سوئی گیس کے حکام نے ،سول سوسائٹی کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپنی مجبوریوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ اوگرا پالیسی کے تحت ھے سب کچھ مرکز کے ھاتھ میں ھے،ان کے بس میں کچھ بھی نہیں
البتہ انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ سول سوسائٹی کی توسط سے عوام کے جو بل سوئی گیس کمپنی کے پاس جمع کرائے جائیں گے اس پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا ،اگر کسی کا بل اضافی اور ناجائز بھیجا گیا ہو تو اس کو درست کیاجائےگا اور اگر کسی کا میٹر ٹیمپرڈ نہیں ہے تو ان پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا اور ان کو نیا میٹر لگوا کر دیا جائے گا
کنزیومر سول سوسائٹی کی جانب سے سوئی گیس کے حکام کو حتمی طور پر بتا دیا گیا ہے کہ جب تک ان کے دونوں مطالبات پر مثبت عمل درامد نہیں کیا جاتا اس وقت تک کوئی شخص بھی اضافی/ ناجائز بل جمع نھی کرےگا اور بل بائکاٹ کی مہم بھی جاری رھے گی
ا س کے علاوہ یہ حکام نے یقین دھانی بھی کرائ ، کہ کنزیومر سول سوسائٹی کے مطالبات سفارش کے ساتھ مرکزی حکام کو ارسال کر دئے جائینگے۔ساتھ ھی حکام نے بل بائیکاٹ مہم ختم کرنے کی درخواست بھی کی ،جس پر انھیں بتایا گیا کہ بل بائکاٹ مہم اس وقت تک جاری رھے گی جب تک دونوں مطالبات مانے نھی جاتے اور عوام سے کہا گیا کہ وہ ناجائز اور اصافی بل کسی صورت میں جمع نا کریں.






