اوتھل کی تاریخ کی بڑی بینک ڈکیتی کا ڈراپ سین، 20 کروڑ روپے لوٹنے والے پانچوں ملزمان یونیورسٹی کے طالب علم نکلے، ماسٹر مائنڈ سمیت 3 گرفتار
ڈیڑھ سال بعد نیشنل بینک ڈکیتی کا معمہ حل، زہیب مرکزی ملزم قرار، ایک اکاؤنٹ سے 17 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف، مزید گرفتاریاں متوقع
اوتھل (نمائندہ ایگل) لسبیلہ پولیس نے ڈیڑھ سال قبل اوتھل میں نیشنل بینک سے ہونے والی تقریباً 20 کروڑ روپے کی بڑی ڈکیتی کا معمہ حل کرتے ہوئے ماسٹر مائنڈ سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ واردات میں ملوث پانچوں ملزمان لسبیلہ یونیورسٹی کے طالب علم یا سابق طالب علم ہیں، جبکہ ڈکیتی کا مرکزی منصوبہ ساز بھی یونیورسٹی کا زیرِ تعلیم طالب علم نکلا۔ اس حوالے سے ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے اوتھل میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ فروری 2025ء میں صبح ساڑھے آٹھ سے نو بجے کے درمیان نیشنل بینک اوتھل میں تقریباً 20 کروڑ روپے اور کچھ لاکھ روپے کی ڈکیتی کی واردات ہوئی تھی۔ واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر اس وقت کے ایس ایچ او اوتھل یار محمد کمانڈو کو دو گولیاں ماری گئی تھیں، جن میں سے ایک ٹانگ جبکہ دوسری آنکھ پر لگی تھی، جس کے نتیجے میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی۔ایس ایس پی کے مطابق اس واردات میں مجموعی طور پر پانچ افراد ملوث تھے، جن میں زوہیب، بلال اکرم، مرتضیٰ، جبار اور بلال حمید شامل ہیں۔ یہ پانچوں لسبیلہ یونیورسٹی کے طالب علم رہے ہیں، جن میں بعض تاحال زیر تعلیم ہیں جبکہ کچھ اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔ پولیس تحقیقات کے مطابق زوہیب اس واردات کا ماسٹر مائنڈ ہے، جس نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی اور واردات کو عملی جامہ پہنایا۔پولیس حکام کے مطابق زوہیب کے حوالے سے پہلے سے سورس انفارمیشن موجود تھی، جس کی بنیاد پر اسے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے دوران اس کے قبضے سے ایک بندوق بھی برآمد ہوئی، جس پر الگ سے ایف آئی آر درج کی گئی۔ بعدازاں دوران تفتیش پہلے سے موجود معلومات اور شواہد کی روشنی میں زوہیب نے ڈکیتی کے حوالے سے اہم انکشافات کیے اور بتایا کہ واردات پانچ افراد نے مل کر انجام دی تھی۔ اس نے واردات میں ملوث افراد اور لوٹی گئی رقم کی تقسیم سے متعلق بھی معلومات فراہم کیں۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے کچھ رقم برآمد کر لی گئی ہے جبکہ مزید ریکوری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ ملزمان کے موبائل فون بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں، جنہیں مزید فرانزک تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھجوایا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق اس کیس میں بعض گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔واردات کے طریقہ کار سے متعلق مزید انکشاف کرتے ہوئے پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمان نے ڈکیتی کے لیے پہلے سفید رنگ کی گاڑی استعمال کی، تاہم بعدازاں اس کا رنگ تبدیل کرکے سیاہ کر دیا تاکہ شناخت سے بچا جا سکے۔ اسی طرح واردات کے دوران استعمال ہونے والی وردیاں بھی ملزمان نے آن لائن منگوائی تھیں۔ ایس ایس پی کے مطابق تحقیقات کے دوران مالی لین دین کے حوالے سے اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔ ڈکیتی سے قبل مرکزی ملزم زوہیب کے بینک اکاؤنٹ میں صرف ہزاروں روپے کی معمولی ٹرانزیکشنز ہوتی تھیں، تاہم گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اس کے اکاؤنٹ سے تقریباً 17 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ سامنے آیا ہے، جو تفتیش میں اہم پیش رفت ہے۔ اسی طرح اوتھل کے کاروباری شخص کرشنا کے ذریعے بھی ڈکیتی کے بعد تقریباً پونے تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی۔ ملزمان کی جانب سے اسے نقد رقم فراہم کی جاتی تھی، جسے وہ اپنے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے آگے منتقل کرتا تھا۔ کرشنا نے اس حوالے سے اعتراف بھی کیا ہے اور مجسٹریٹ کے روبرو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان بھی ریکارڈ کروا دیا ہے۔ ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ واقعے کو تقریباً ڈیڑھ سال گزرنے کے باعث واردات سے حاصل ہونے والی رقم مختلف مقامات پر منتقل اور سرمایہ کاری میں استعمال ہو چکی ہے۔ پولیس بینک اسٹیٹمنٹس اور دیگر ذرائع کے ذریعے رقم کی منتقلی کا سراغ لگانے اور مزید شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہے۔ اس سلسلے میں مزید ریکوری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیس میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ جبار، بلال حمید اور زوہیب کے بھائی یار محمد کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں، تاہم تفتیش کے حساس پہلوؤں کے پیش نظر فی الحال ان کے کردار کی مکمل تفصیلات میڈیا کے سامنے نہیں لائی جا سکتیں۔ ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ بینک ڈکیتی جیسے بڑے مقدمے میں رقوم کی منتقلی اور مالی لین دین کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، اس لیے پولیس تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ مزید گرفتاریوں، ریکوری اور فرانزک عمل کے بعد تفتیش کی مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔ ایس ایس پی لسبیلہ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اس کیس کو میڈیا کے سامنے لانے کا مقصد لسبیلہ اور بلوچستان کے عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ پولیس کسی بھی جرم کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ جرم کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو، پولیس مسلسل محنت اور پیشہ ورانہ تفتیش کے ذریعے ملزمان تک پہنچتی ہے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لاتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 24 سے 26 سال کی عمر کے نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرکے محنت کرنی چاہیے تھی، اپنے والدین اور معاشرے کی امیدوں پر پورا اترنا چاہیے تھا اور ایک اچھا، بااخلاق اور قابل انسان بننا چاہیے تھا، مگر انہوں نے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو تعلیم اور حلال روزگار کے بجائے ڈکیتی جیسے سنگین جرم میں استعمال کیا، جو نہ صرف ان کے خاندانوں بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ایس ایس پی نے واضح کیا کہ لسبیلہ پولیس عوام کی پولیس ہے اور ضلع میں پیش آنے والے ہر چھوٹے بڑے واقعے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس موقع پر ڈی ایس پی راحق علی شاہ، اوتھل عبدالوحید مگسی، ایس ایچ او بیلہ یار محمد کمانڈو، سب انسپکٹر حافظ عبدالرزاق رونجھو، سب انسپکٹر نذیر احمد رونجھو، PRO ایس ایس پی لسبیلہ بشیر احمد رونجھو، اے ایس آئی محمد ہاشم شاہوک بھی موجود تھے۔






