
( اویس کیانی)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کاروبار میں آسانی سے متعلق اقدامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومت کی پالیسی اصلاحات، آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کاروبار میں آسانی کے لیے حکومت کے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ میں مزید تیزی لائی جائے، انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی افادیت اور مؤثر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی وسیع استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کاروبار میں آسانی سے متعلق تمام پالیسی اقدامات کے نفاذ پر جامع رپورٹ جلد از جلد تیار کرکے پیش کی جائے۔
انہوں نے کاروبار میں آسانی کے لیے قانون سازی اور پالیسی سازی میں وزارتِ قانون و انصاف، ایس آئی ایف سی، سرمایہ کاری بورڈ، وزارتِ تجارت، وزارتِ صنعت اور دیگر متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں لائقِ تحسین قرار دیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے مختلف ضوابط، کاغذی کارروائیوں اور منظوریوں کو کم کرنے کے حوالے سے 558 اصلاحات پر کام مکمل کیا جا چکا ہے، ان میں سے 71 پالیسی اقدامات پر عمل درآمد ہو چکا ہے جبکہ مزید 272 اقدامات پر تیزی سے کام جاری ہے،حکام کے مطابق ان اصلاحات کو سات مرحلوں میں مختلف شعبوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی الزامات حقائق کے منافی، چین کو بدنام کرنے کی کوشش ہے: ترجمان دفترِ خارجہ
بریفنگ کے مطابق ان اقدامات سے کاروباری برادری کو مختلف ضوابط اور شرائط کی تکمیل پر آنے والے اخراجات میں تقریباً 468.7 ارب روپے کی بچت کا تخمینہ ہے، اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ غیر ضروری اور پیچیدہ کاغذی کارروائیوں اور ضوابط کے خاتمے سے برآمدات میں اضافہ، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت کاروبار میں آسانی کے اقدامات پر عمل درآمد اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کو اہم معیار بنایا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، قیصر احمد شیخ، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سید مصطفیٰ کمال، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، مشیرِ وزیراعظم محمد علی، معاونِ خصوصی ہارون اختر، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز سمیت بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔






