
(24 نیوز)آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب دستک دے رہا ہے جہاں اب ایسے ’’پاکٹ سائز‘‘ اسمارٹ فونز تیار کیے جا رہے ہیں جو صرف انسانی آواز پر کھانا آرڈر کرنے سے لے کر پیغامات لکھنے تک کے تمام کام خودکار طریقے سے انجام دے سکیں گے۔
شنگھائی میں منعقدہ عالمی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس میں مختلف کمپنیوں نے ایسے جدید فونز پیش کیے ہیں جو روایتی ایپس کے استعمال کو ختم کر کے ڈیجیٹل معیشت کا پورا ڈھانچہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسمارٹ فون بنانے والی چینی کمپنی ‘نوبیا’ نے اپنا نیا فون ‘نیوی ایکس الٹرا’ پیش کیا ہے جو ٹک ٹاک کی بانی کمپنی ‘بائٹ ڈانس’ کے مشہور چیٹ بوٹ ‘ڈوباؤ’ کے ذریعے چلتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سمارٹ فونز کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
مزید پڑھیں:پرائمری سکولوں میں اے آئی مضمون کا فیصلہ تاخیر کا شکار، کتابوں کی چھپائی بھی متاثر
اس سے قبل دسمبر میں ‘ڈوباؤ فون’ کا ایک ابتدائی ماڈل مارکیٹ میں آیا تھا جو آواز کے ذریعے مختلف ایپس پر جا کر کھانا آرڈر کرنے اور قیمتوں کا موازنہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
دوسری جانب بڑی ٹیک کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا اور کنٹرول چھن جانے کے خوف سے ان اے آئی ایجنٹس کا راستہ روکنے کی کوششیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔
چین کی بڑی کمپنیوں ‘علی بابا’، ‘ٹین سینٹ’ اور ‘جے ڈی ڈاٹ کام’ نے اس سمارٹ فون کی اپنے پلیٹ فارمز تک رسائی بلاک کر دی۔
ان کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ اگر اے آئی ایجنٹ براہ راست صارف کے کام کرنے لگا تو وہ اپنے صارفین پر کنٹرول کھو دیں گی۔
اس وجہ سے بائٹ ڈانس کو ادائیگیوں سمیت کئی معاملات میں اس ٹول کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔






