
(24نیوز) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہرعلی کی 26 نومبر احتجاج میں اموات کا مقدمہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا حکمنامہ جاری کر دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے 17 صفحات پر مشتمل حکمنامہ جاری کیا ہے جس میں قرار دیا گیا کہ متعدد تاریخیں دینے کے باوجود بیرسٹر گوہر علی خان نے چشم دید گواہ کے طور پر اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔
فیصلہ مین ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے کہا کہ قانون کے مطابق شکائت کے ساتھ گواہوں کی فہرست منسلک کرنا ضروری ہے۔ شکایت میں علی امین گنڈاپور، عمر ایوب، بشریٰ بی بی اور متعدد ارکان اسمبلی کو گواہ قرار دیا گیا۔ کوئی گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوا، کوئی بیان جمع نہیں کروایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بیرسٹر گوہر کی شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ 12 افراد ہلاک ہوئے اور ان کے 38 سے زائد کارکن گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ لیکن طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ پیش نہیں کی گئی، کوئی ، ڈیتھ سرٹیفکیٹس یا زخمیوں کی میڈیکل رپورٹیں پیش نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پرھیں: 15 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی، فرانس نے بل منظور کر لیا
عدالت نے قرار دیا کہ بظاہر (اس وقت کے) وزیرِ اعظم اور کابینہ ارکان کے خلاف مقدمہ نہیں بنتا۔ شواہد کی عدم موجودگی میں محض زبانی الزامات کی بنیاد پر کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ وزیرِ اعظم اور دیگر کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے مطلوبہ ابتدائی شواہد تک فراہم نہیں کیے گئے۔ اگر ریاستی ادارے یا ہسپتال تعاون نہیں بھی کر رہے تھے تو قبر کشائی کا قانونی حق موجود تھا۔ مجسٹریٹ کی عدالت سے رجوع کر کے لاشوں کی قبر کشائی اور موت کی اصل وجوہات معلوم کرنے کی کارروائی کرائی جا سکتی تھی۔
طویل عرصہ گزرنے کے باوجود درخواست گزار نے کوئی قانونی اقدام نہیں اٹھایا۔
عدالت نے فیصلہ میں نوٹ کیا کہ شکایت کے ساتھ صرف بعض اخبارات کے تراشوں کے متعدد والیمز منسلک کیے گئے۔ الزامات کے حق میں کوئی ڈیجیٹل فوٹیج بطورِ ثبوت ریکارڈ پر پیش نہیں کی گئی۔
بیرسٹر گوہر کی اس درخواست میں وزیراعظم شہبازشریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطاتارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف اور کئی دیگرحکومتی عہدیداروں اور اہلکاروں کو فریق بنایاگیاتھا۔
یہ بھی پرھیں: ورلڈ کپ 2026ء کے بعد فیفا نے نئی رینکنگ جاری کردی






