(24نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو لاہور کے مینار پاکستان، گریٹر اقبال پارک میں اتوار 25 جولائی کو جلسہ عام میں خطاب کریں گے۔ گریٹر اقبال پارک میں پاکستان پیپلز پارٹی کا جلسہ چالیس سال بعد ہو رہا ہے۔ پنجاب حکومت سے آج اجازت ملتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن دیوانہ وار گریتر اقبال پارک میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں اور پارک میں میلے کا سماں ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی لاہور کے جیالا صدر فیصل میر خود آج ساری رات گریٹر اقبال پارک مین رہ کر جلسہ کی تیاریاں کرنے ولے کارکنوں کے ساتھ کام کرین گے۔
آج جمعرات کی رات پیپلز پارٹی کے چالیس سال بعد ہونے والے گرینڈ جلسہ کی تیاریاں تیزی سے کی جا رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی لاہو کے صدر ر فیصل میر آج جمعرات کے روز کئی دوسرے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ جلسہ کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے گریٹر اقبال پارک گئے۔
مینار پاکستان کے سائے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا جلسہ طویل عرصہ کے بعد ہو رہا ہے۔ اور اسے آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کا حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی لاہور کے فیصل میر نے گریٹر اقبال پارک میں جلسہ کی تیاریوں کے جائزہ کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس جلسے کی اجازت دینے پر وزیراعلی مریم نواز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پرنسپل سیکرٹری نے ہمیں بتایا کہ گریٹر اقبال پارک (مینار پاکستان) کے تاریخی وینیو پر جلسہ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
فیصل میر نے بتایا کہ جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو پروان چڑھایا ہے۔ جلسے کی تاحال زبانی اجازت دی گئی ہے تحریری اجازت ابھی نہیں دی گئی۔
فیصل میر نے بتایا کہ آج 23 جولائی کو پیپلز پارٹی کے اکارکن اقبال پارک آ گئے ہیں۔ ہم ساری رات یہیں ہیں۔
فیصل میر نے بتایا کہ 25 جولائی کو جلسہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مینٹور، صدر مملکت آصف علی زرداری کی سالگرہ کا کیک کاٹا جائے گا۔ صدر آصف زرداری کے بلند سیاسی قد کے شایان شان لہوری جیالے اپنے محبوب لیٖڈر کی سالگرہ کے لئے 24 فٹ اونچا کیک بنوا رہے ہیں۔
25 جولائی کو جلسہ رات 8 بجے شروع ہو گا۔
فیصل میر نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھتو وڈیو لنک سے گریٹر اقبال پارک کے جلسہ سے خطاب کریں گے۔
فیصل میر خود، ان کے ساتھ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضی، سابق گورنر قمر زمان کائرہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما جلسہ سے خطاب کریں گے۔
چالیس سال پہلے بینظیر شہید کا مینار پاکستان پر جلسہ اور پیپلز پارٹی کا رینی سینس
1986 میں بینظیر بھٹو شہید 10 اپریل کو لاہور کے پرانا ائیر پورٹ پر اتری تھیں اور جلسہ کرنے کے لئے مینار پاکستان گئی تھیں۔ یہ ایک غیر معمولی دن تھا۔ شہر میں اس قدر ہجوم اس سے پہلے اور اس کے بعد سڑکوں پر نہیں آیا تھا۔
10 اپریل 1986 پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ان چند دنوں میں سے ہے جنہیں صرف ایک سیاسی جلسہ نہیں بلکہ ایک سیاسی موڑ (political watershed) سمجھا جاتا ہے۔
اس دن کیا ہوا؟
بے نظیر بھٹو تقریباً ڈھائی سال کی جلاوطنی کے بعد 10 اپریل 1986 کو لاہور کے پرانے ہوائی اڈے پر اتریں۔ اس وقت جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت قائم تھی، اگرچہ مارشل لا رسمی طور پر اٹھایا جا چکا تھا۔ اور سیاسی سرگرمی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ بینظیر بھٹو شہید کو لاہور واپس آ کر جلسہ کرنے میں کوئی مزاحمت درپیش نہیں آئی تھی۔
بی بی کی واپسی کیلئے لاہور کو کیوں منتخب کیا گیا؟
یہ ایک سوچا سمجھا سیاسی فیصلہ تھا۔ اس وقت پنجاب کو ضیاء الحق کی طاقت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔
لاہور پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی شہر تھا۔ اور دراصل پاکستان پیپلز پارٹی بیس سال پہلے یہیں ،اس شہر میں ہی بنی تھی۔ بینظیر بھٹو اپنی پارٹی کے پرانے قلعہ کو واپس لینے کے لئے بہت سنجیدہ تھیں۔ انہیں یقین تھا کہ اگر پنجاب میں عوامی طاقت ان کے ساتھ متحرک ہو جاتی تو یہ پورے ملک کے لیے پیغام ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بے نظیر نے کراچی یا لاڑکانہ کے بجائے لاہور سے اپنی واپسی کا آغاز کیا۔
ہوائی اڈے سے مینارِ پاکستان
فاصلہ معمول کے حالات میں جلوس چلتا رہتا تو دو گھنٹے کا ہوتا لیکن اس دن شہید بی بی کے موٹرکیڈ کو تقریباً 10 میل کا راستہ طے کرنے میں 10 گھنٹے لگے۔
لوگ سڑکوں، عمارتوں کی چھتوں، درختوں، پلوں، بجلی کے کھمبوں حتیٰ کہ بسوں کی چھتوں پر موجود تھے۔
جگہ جگہ پھول نچھاور کیے گئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سرخ، سبز اور سیاہ پرچم پورے شہر پر چھائے ہوئے تھے۔
ہجوم کتنا تھا؟
یہ آج بھی اختلافی سوال ہے کہ بی بی کی لاہور واپسی کے روز لاہور میں سڑکوں پر اور مینار پاکستان کی جلسہ گاہ میں ہجوم کتنا تھا۔
مغربی اخبارات نے “hundreds of thousands” لکھا۔
بعض پاکستانی ذرائع نے 20 لاکھ تک کا اندازہ دیا۔
بعض سیاسی کارکن آج بھی 30 لاکھ یا اس سے زیادہ کا دعویٰ کرتے ہیں۔
کسی نے باقاعدہ گنتی نہیں کی، لیکن تقریباً تمام معاصر رپورٹس اس پر متفق ہیں کہ یہ لاہور کی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک تھا۔ یہ اجتماع کم اور لاہور بھر میں ہو رہا میلہ زیادہ تھا۔ بینظیر بھٹو کے راستے کی سڑکین انسانوں سے بھری ہوئی تھیں اور باقی شہر کی سڑکوں پر لوگ جوق در جوق بینظیر کے جلوس کی گزرگاہ کی طرف جا رہے تھے یا براہ رست مینار پاکستان جا رہے تھے۔

سیاسی اثر
اس اجتماع نے تین بڑے پیغام دیے تھے۔ ضیاء حکومت کے خلاف عوامی مخالفت ختم نہیں ہوئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے باوجود بھٹو خاندان کی سیاسی اپیل زندہ تھی۔ بے نظیر بھٹو ایک قومی سطح کی قائد مانی جا چکی تھیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے اسی دن لکھا کہ یہ جنرل ضیاء کے لیے اب تک کا سب سے بڑا داخلی سیاسی چیلنج تھا۔
ایک دلچسپ تاریخی پہلو
بے نظیر کی اصل واپسی 4 اپریل کو، اپنے والد کی برسی پر، منصوبہ بندی کی گئی تھی، لیکن بعد میں تاریخ بدل کر 10 اپریل کر دی گئی۔
جیالوں کی یادیں
“پنجاب اور ملک بھر سے آئے ہوئے جیالے اب بھی اس دن کو یاد کر کے چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ بتاتے ہیں کہ شہر میں اس قدر ہجوم اس سے پہلے اور اس کے بعد سڑکوں پر نہیں آیا تھا۔”
یہ تاثر بہت سے لاہور کے عینی شاہدین ، جب بھی ان سے دریافت کیا جائے، بیان کرتے ہیں۔ البتہ تاریخ میں بعد کے چند مواقع، مثلاً 2007 میں بے نظیر کی واپسی، 2011 کے بعض سیاسی اجتماعات، اور بعد کے چند بڑے اجتماعات بھی غیر معمولی تھے، مگر 1986 کے استقبال کو اب بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے جلوسوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس دن کی ایک بات ہمیشہ دلچسپ مانی جاتی ہے کہ یہ صرف ایک سیاسی ریلی نہیں تھی، بلکہ پاکستان میں فوجی حکومت کے خلاف عوامی اعتماد کی بحالی کا علامتی دن تھا۔ بہت سے مبصرین اسے 1988 میں ضیاء الحق کے بعد جمہوریت کی واپسی کے سفر کا نقطۂ آغاز بھی قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو نے کشمیر کو سینیٹ میں نمائندگی دینے، خواجہ آصف کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا






