
(24 نیوز )یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان میں پیش آنے والے ’’ماریہ شہباز کیس‘‘ سے متعلق مذمتی قرار داد منظورکی گئی ہے ، یورپی پارلیمنٹ میں پیش کردہ قرارداد میں موقف اپنایا گیا کہ 13 سالہ مسیحی لڑکی ماریہ شہباز کو جولائی 2025 میں اغوا کے بعد زبردستی مسلمان کر کے شادی رچائی گئی جبکہ پاکستان میں کم عمری میں شادی پر پابندی عائد ہے۔
پاکستان کی جانب سے یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ماریہ شہباز نے اپنی مرضی سے نقاش نامی نوجوان کے ساتھ شادی رچائی تھی اور اس کی کم عمری سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں ہیں ۔
پاکستان نے ماریا شہباز کیس سے متعلق بعض یورپی حلقوں کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کو حقائق کے برعکس پیش کیا جا رہا ہے، یورپ میں موجود ایک گروہ ماریہ شہباز کے کیس کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، رپورٹ کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے غلط حقائق کی بنیاد پر یورپی پارلیمنٹ میں قراردادیں اور مباحثے کرائے جا رہے ہیں۔
9 جولائی کو یورپی پارلیمنٹ نے بھی اسی مخصوص معاملے پر پاکستان کے خلاف ایک قرارداد منظور کی، پاکستانی مؤقف کے مطابق ماریہ شہباز، دختر شہباز مسیح، فیصل آباد کے مدینہ ٹاؤن کی رہائشی تھی جو 28 اپریل 2020 کو اپنی مرضی سے محمد نقاش کے ساتھ گھر سے گئی۔ والدہ کی درخواست پر پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی شروع کی۔
3 جولائی 2020 کو ماریہ شہباز اور محمد نقاش عدالت کے سامنے پیش ہوئے، جہاں دونوں نے شادی کا بتایا، عدالت نے حتمی فیصلے تک ماریہ کو دارالامان بھیج دیا۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے ماریہ کے بیان اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر 4 اگست 2020 کو ایف آئی آر ختم کرتے ہوئے اسے اپنی مرضی کے مطابق شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔
پاکستانی حکام کے مطابق دورانِ سماعت ماریہ کی عمر سے متعلق پیش کیے گئے دستاویزات میں تضادات سامنے آئے اور عدالت نے اسے بالغ قرار دیا، حکام کا کہنا ہے کہ فیصلے کے بعد جبری مذہب تبدیلی یا غیر قانونی حراست سے متعلق کوئی نئی شکایت سامنے نہیں آئی۔
پاکستانی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض گروپس نے اس کیس کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ عدالت نے قانون اور دستیاب شواہد کے مطابق فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں :کرک میں پولیس کی بڑی کارروائی، کالعدم تنظیم کے 4 دہشت گرد ہلاک






