(24نیوز) خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہپانچ اگست کا جلسہ سیمی فائنل اور فیصلہ کن ہوگا۔ اس جلسہ میں آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے یہ باتیں پشاور میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس مین موجود پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو بتایا کہ پانچ اگست کے جلسے کی تیاریوں کے لیے تمام پارلیمانی ارکان اسمبلی کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ عوام کی سہولت کے لیے پانچ اگست کے جلسے کا مقام تبدیل کر کے جلسہ کو پشاور موٹروے کے قریب منتقل کر دیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس مین کہا کہ ہم نے 15 اکتوبر 2025 سے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے اور افہام و تفہیم سے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں تھی۔ مخالفین نے مثبت کوششوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ بانی سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے ملاقاتیں کرنے کی کوشش کی۔
ایک تقریب میں چیف جسٹس کے سامنے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات کے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنی جماعت کے قائد سے ملاقات کرنا میرا آئینی اور قانونی حق ہے۔ صوبے کے فیصلے بانی کے وژن کے مطابق کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم میں سے کسی کی کوئی ذاتی سیاسی حیثیت نہیں ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو ملنے والا مینڈیٹ مسترد کرنا ساڑھے چار کروڑ عوام کی توہین ہے۔

وفاق خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ان کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کر رہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی فیملی، بہنوں اور ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات اور بہترین علاج کی سہولت دی جائے۔ بانی پی ٹی آئی مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: بنگلہ دیش کے صدر شہاب الدین نے استعفیٰ دےدیا
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم پر فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزامات لگائے گئے، نو مئی کی غیرجانبدار تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ بانی کا مؤقف ہے “فوج بھی میری، ملک بھی میرا”، تمام بیانیوں میں مخالفین کو شکست دینے کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے۔ اب پرامن احتجاج ہی آخری آئینی راستہ ہے، آئین ہر شہری کو اس کا حق دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: پٹرولیم مصنوعات کی قیمت روزانہ مقرر کرنے کی پالیسی، سینیٹ کمیٹی نے اوگرا اور پٹرولیم ڈویژن سے جواب طلب کر لیا






