
(24نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما خواجہ آصف کے راولا کوٹ اور میر پور کو کشمیر کا حصہ نہ ماننے کے بیان سے کشمیریوں کی دل آزادی ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت نے خواجہ آصف کو وفاقی کابینہ سے کیوں نہیں نکالا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما شرجیل انعام میمن نے میر پور میں میڈیا کے رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کو وزارت اور پارٹی سے کیوں نہیں نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے خواجہ آصف کو کشمیریوں کے دل دکھانے کی کوئی سزا نہیں دی۔
شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف کے پنجاب حکومت کی بسیں آزاد کشمیر کے الیکشن سے چند روز پہلے یہاں بھیج دینے کے عمل کی مذمت کی اور کہا کہ یہاں ٹرکوں کے اوپر بسیں گھوم رہی ہیں،الیکشن سے ایک دن پہلے یہ سب کچھ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو دیکھنا چاہیے ۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کیا یہ بسیں بھیج کر کشمیریوں کو خرید سکیں گے۔ میرپور کے لوگ باشعور ہیں،ایسے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ غیرت مند کشمیری عوام اس طرح کے ڈراموں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ 20 کروڑ روپے کی بسوں سے کشمیریوں کو خریدا نہیں جا سکتا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ میرپور ڈویژن میں کل انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ میرپور کا فیصلہ میرپور کے عوام کریں گے۔ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے کشمیریوں کی تضحیک کی۔ وہی کشمیر میں آج بیٹھے ہوئے ہیں۔
شرجیل میمن نے وفاقی حکومت کے وزیروں کے آزاد کشمیر میں الیکشن کیمپین کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزراء اپنی وزارتیں سنبھالیں وہ یہاں کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہہم الیکشن کمپین ختم ہونے کے بعد آئے ہیں۔ ہم یہاں آئے ہیں تاکہ کوئی بھی وفاقی وزیر دھاندلی نہ کر سکے۔
شریجل میمن نے کہا کہ کشمیری پیپلزپارٹی کو ووٹ دیں گے۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔ بلاول بھٹو نے بھی مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
پیپلزپارٹی کے مقابلے میں ٹانگہ پارٹیوں کو لوگ ووٹ نہیں دیں گے۔ یہ لوگ ملک سے بھاگ جاتے ہیں،ووٹ ان کو ملیں گے جنہوں نے جانیں دیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں مخالفین کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب کشمیر کے وارث آگئے ہیں، مریم نواز






