
(24 ںیوز )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی(Senate Standing Committee)برائے منصوبہ بندی کے اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر نے 2050 میں پاکستانی کی ممکنہ آبادی کا تخمینہ بتایا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کا اجلاس سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت ہوا جس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی جی ہیلتھ نے بریفنگ دی۔
ڈی جی ہیلتھ نے بتایا کہ 2030 تک پاکستان کی آبادی 30 کروڑ سے زائد ہو گی، جب کہ 2050 تک ملکی آبادی 39 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔
اس موقع پر آبادی کنٹرول کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تھت 2 ارب روپے کے پراجیکٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے کمتی کو بتایا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پروگرام کے تحت 2022 میں 11 ملین مانع حمل پروڈکٹس خریدی، تاہم مانع حمل کی پروڈکٹس تاحال مکمل استعمال نہیں ہو سکی اور مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں ہر پانچ سال بعد ڈیموگرافک ہیلتھ سروے ہونا چاہیے لیکن 8 سال گزرنے کے باوجود پاکستان میں ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے نہیں ہوا، جس کی وجہ سے کوانٹیفائیڈ ڈیٹا نہیں مل سکا۔
قائمہ کمیٹی نے 8 برسوں میں ڈیمو گرافک اینڈ ہیلتھ سروے نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جون تک پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں :مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما کرنل (ر) شیر افگن خان انتقال کر گئے






