1

تین دن کے دوران دریاؤں نالوں اور رود کوہی میں سیلاب کا خطرہ الرٹ جاری ہو گیا

(24نیوز) نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے آج   31جولائی تا 2 اگست کے دوران دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے کے الرٹ جاری کیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق ان دنوں کے دوران دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں اضافے اور بعض علاقوں سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

آج  31 جولائی کی شب تک صورتحال یہ ہے کہ  دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔

 کالاباغ، چشمہ اور سکھر کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ 

دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر درمیانے سے بلند درجے کے بہاؤ کا امکان ہے۔

 خانکی اور قادرآباد کے مقام پر نچلے سے درمیانے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے۔ 

این ڈی ایم اے نے آج رات سے دریائے جہلم، راوی، کابل اور ان سے ملحقہ دریاؤں اور ندی نالوں میں بھی نچلے سے درمیانے درجے کے بہاؤ کی پیشگوئی کی ہے۔

دریائے جہلم، چناب اور راوی س اور ان تین دریاؤں میں گرنے والے  پہلاڑی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔

رود کوہی میں سیلاب کا الرٹ

ان دنوں میں ڈی جی خان اور راجن پور ک میں رود کوہی کے پہاڑی نالوں میں پانی کے شدید بہاؤ کا خدشہ بھی ہے۔

 خیبرپختونخوا کے وسطی اور  جنوبی اضلاع اور شمالی بلوچستان کے متعدد برساتی نالوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو جانے کا خطرہ ہے۔ 

خیبرپختونخوا کے اضلاع مہمند، باجوڑ، بونیر، مردان، کرم، جنوبی وزیرستان، شانگلہ اور پشاور کے ندی نالوں میں طغیانی کا امکان ہے۔ 

شمالی بلوچستان میں ناری، بولان، کنگری اور لہڑی دریاؤں میں بھی اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

پنجاب کے راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال اور نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔

سیالکوٹ، گجرات، نارووال، کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال اور نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔

لاہور، اوکاڑہ، ساہیوال اور فیصل آباد کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال اور نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔

سندھ کے نواب شاہ، سکھر، شہید بینظیر آباد، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، سانگھڑ میں بھی شہری سیلاب اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے۔

 خیرپور، مٹھی، میرپور خاص، عمرکوٹ، میں بھی شہری سیلاب اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے۔

ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار اور تھرپارکر میں بھی شہری سیلاب اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے۔

خیبرپختونخوا کے پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور مردان میں شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:  براڈ پِیک سانحہ؛ لاپتہ دس کوہ پیماؤں میں سے دو کی لاشیں مل گئیں

این ڈی ایم اے نے عوام کو ممکنہ طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔  پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھا ہوا ہے۔

عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ندی نالوں میں  تیز بہاؤ والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں۔ سفر کے دوران اپنے ساتھ پینے کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، ابتدائی طبی امداد کا سامان، پاور بینک اور ہنگامی رابطہ نمبرز ضرور رکھیں ۔ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔   انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔

یہ بھی پڑھیئے:  ملک کے بیشتر علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں