کوئٹہ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 23 ستمبر پشتون کلچر ڈے پشتون قوم کی قدیم ثقافت، تہذیب، زبان، رسم و رواج اور روایات کو اجاگر کرنے کا ایک اہم عالمی دن ہے۔ اس دن کو ہر سال ملک اور بیرونِ ملک مختلف علاقوں میں پشتون ثقافت اور تہذیب کے اظہار کے طور پر منایا جاتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوا وطن، بالخصوص جنوبی پشتونخوا میں موجودہ حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ دہشت گردی، بدامنی، قتل و غارت گری، مختلف سانحات اور امن و امان کی ابتر صورتحال کے باعث اس سال 23 ستمبر پشتون کلچر ڈے کی تقریبات سادگی، سنجیدگی اور باوقار انداز میں منعقد کی جائیں گی۔پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ نے تمام اضلاع کی تنظیموں کو تاکید کی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں 23 ستمبر کو پشتون کلچر ڈے کی تقریبات سادگی اور وقار کے ساتھ منعقد کریں اور اس موقع پر پشتون قوم کی زبان، تاریخ، ثقافت، تہذیب، روایات اور مثبت سماجی اقدار کو اجاگر کریں۔ کوئٹہ میں بھی پشتون کلچر ڈے کے حوالے سے کوئٹہ پریس کلب میں تقریب منعقد کی جائے گی۔بیان میں کہا گیا کہ پشتون ثقافت اس خطے کی قدیم، وسیع اور تاریخی ثقافتوں میں سے ایک ہے، جس کی بنیاد پشتو زبان، ادب، موسیقی، لباس، رسم و رواج، روایات، جرگہ، مېلمه پالنه، رواداری اور دیگر سماجی و تہذیبی اقدار پر قائم ہے۔ یہ ثقافتی ورثہ صدیوں اور ہزاروں سال پر محیط ایک تاریخی تسلسل رکھتا ہے، جسے نئی نسل تک منتقل کرنا ایک اہم قومی اور ثقافتی ذمہ داری ہے۔بیان میں پشتون کلچر ڈے کے آغاز کے حوالے سے کہا گیا کہ 2015 میں کوئٹہ میں منعقدہ پشتو عالمی ادبی کانفرنس میں پشتون ثقافت کے لیے ایک مخصوص دن منانے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس موقع پر ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی تجویز اور رہنمائی کی روشنی میں نصراللہ خان زہری نے کانفرنس کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ ہر سال ایک دن پشتون کلچر ڈے کے طور پر منایا جائے۔اس تجویز پر پشتو عالمی ادبی کانفرنس میں شریک دنیا بھر سے آئے ہوئے ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، ماہرین اور اہلِ علم نے غور کیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ ہر سال 23 ستمبر کو پشتون کلچر ڈے کے طور پر منایا جائے۔ اسی فیصلے کے بعد 23 ستمبر کو پشتون ثقافت کے عالمی دن کے طور پر ملک کے مختلف علاقوں، پشتونخوا وطن اور دنیا کے مختلف ممالک میں یہ دن منایا جا رہا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پشتون کلچر ڈے کا مقصد کسی دوسرے قوم یا ثقافت کے مقابلے میں اپنی ثقافت کو پیش کرنا نہیں بلکہ اپنی تاریخی شناخت، زبان، تہذیب، روایات اور مثبت ثقافتی اقدار کو زندہ رکھنا، نئی نسل کو اپنے ثقافتی ورثے سے روشناس کرانا اور دنیا کے سامنے پشتون قوم کی امن، رواداری، مېلمه پالنې اور انسان دوستی پر مبنی ثقافتی روایات کو اجاگر کرنا ہے۔مرکزی سیکرٹریٹ نے پارٹی کی تمام ضلعی تنظیموں پر زور دیا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر تقریبات میں سادگی اور وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پشتون ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے اور 23 ستمبر کو پشتون ثقافتی ورثے سے وابستگی کے اظہار کا دن بنایا جائے۔
1






