
(بابر شہزاد تُرک)افغانستان کی میڈیکل و ڈینٹل ڈگری رکھنے والے پاکستانی نیشنل رجسٹریشن ایگزامینشن کے اہل نہیں ہوں گے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے واضح کر دیا۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے جاری کردہ پبلک نوٹس میں بیرون ملک سے میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ اور فارغ التحصیل گریجویٹس کیلئے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ فارن میڈیکل گریجویٹس کو پاکستان میں بطور ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ رجسٹریشن اور پریکٹس سے قبل نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن (این آر ای) پاس کرنا ہو گا، تاہم افغانستان کے میڈیکل اور ڈینٹل اداروں سے ڈگری حاصل کرنے والے پاکستانی اس امتحان میں شرکت کے اہل نہیں ہوں گے۔
پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری پبلک نوٹس کے مطابق صرف وہ ہی پاکستانی شہری این آر ای امتحان میں شرکت کے اہل ہوں گے جنہوں نے اپنی بنیادی میڈیکل یا ڈینٹل ڈگری ایسے غیر ملکی اداروں سے حاصل کی ہو جو ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس (ECFMG) کی تسلیم شدہ فہرست میں شامل ہوں اور دیگر تمام مقررہ شرائط پوری کرتے ہوں، پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پی ایم ڈی سی کے علم میں آیا ہے کہ متعدد پاکستانی طلبہ افغانستان میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تاہم افغانستان کے میڈیکل اور ڈینٹل ادارے اس وقت ای سی ایف ایم جی کی تسلیم شدہ فہرست میں شامل نہیں، لہٰذا ان اداروں کے گریجویٹس این آر ای امتحان میں شرکت، پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور پاکستان میں طب و دندان سازی کی پریکٹس کے اہل نہیں ہوں گے۔
پی ایم ڈی سی نے افغانستان میں زیر تعلیم یا وہاں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مستقبل کے پیشہ ورانہ تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ کونسل نے واضح کیا ہے کہ مقررہ اہلیت کے معیار میں کسی قسم کی رعایت، استثنا یا خصوصی اجازت نہیں دی جائے گی، پی ایم ڈی سی کے مطابق یہ پبلک نوٹس عوامی مفاد میں جاری کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو مستقبل میں مشکلات سے بچایا جا سکے اور بیرون ملک میڈیکل و ڈینٹل ڈگریوں کی پاکستان میں منظوری سے متعلق ضوابط کے بارے میں بروقت آگاہی فراہم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی قیمت ایک بار پھر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی






