
(24نیوز) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی ایک وارڈ میں آگ لگنے سے 15 نومولود بچوں کے جل کر مر جانے کے سانحہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ عوامی مطالبہ بن گیا۔ پاکستان میڈکل ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر اشرف نطامی نے بھی اس سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا بھی مطالبہ کر دیا۔
ڈاکٹر اشرف نظامی نے پمز (PIMS) اسلام آباد میں 15 نوزائیدہ بچوں کی اموات کے سانحہ پر اپنے بیان میں کہا کہ پمز اسلام آباد میں 15 نوزائیدہ بچوں کی المناک اموات انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہیں۔ یہ محض طبی انتظامیہ کی ناکامی نہیں، بلکہ 15 خاندانوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور ایک فکر مند شہری کی حیثیت سے، میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار قرار پانے والے تمام افراد کا سرکاری سطح پر احتساب کیا جائے۔
ڈاکٹر اشرف نطامی نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو حقائق سے آگاہ کیا جائے، انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے اور حکام کی جانب سے اس المناک نقصان پر باضابطہ معافی مانگی جائے۔
ڈاکٹر اشرف نطامی نے مزید کہا کہ وفاقی وزیرِ صحت سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ اس قدر سنگین واقعے میں اعلیٰ ترین ذمہ دار سطح پر احتساب کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان اور عوام محض یقین دہانیوں کے نہیں، بلکہ احتساب، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور ایسے ٹھوس اقدامات کے حق دار ہیں جن سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایسا سانحہ دوبارہ کبھی نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیئے: ڈاکٹر نے نہیں میں نےبچی کو بچایا، واحدبچ جانیوالی نومولود کی خالہ کے ہوشربا انکشافات






