
(24نیوز) اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کو سپرد خاک کر دیا گیا۔
14 خاندانوں میں خوشیاں لانے والے معصوم نومولودوں کی موت پر ہر طرف اداسی اور غم کا راج ہے، راولپنڈی میں ایک بچی کے غم سے نڈھال والدین کا کہنا تھا کہ لاکھ انکوائریاں ہو جائیں بہت سوں کو سزائیں مل جائیں مگر ہمارے آنگن کا پھول نہیں کھل سکے گا۔
ایک بچے کی والدہ نے کہا کہ چار سال بعد آنگن میں پھول کھلا اب منو مٹی تلے چلا گیا، راولپنڈی میں ایک بچے کے والد نے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ کیا شکوہ کروں اللہ کی رضا پر ماتھا ٹیک دیا۔
راولپنڈی کے علاقے شمس آباد کے رہائشی نےمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے سب سے بڑے ہسپتال کا کچا چٹھا کھول دیا، والد کا کہنا تھا منتوں مرادوں سے بیٹی ملی تین دن بعد رخصت ہو گئی، غم کا پہاڑ ہے کاٹے نہیں کٹتا۔
یہ بھی پڑھیں:دشمن کا کوئی بھی غلط اقدام فوری جوابی کارروائی کا باعث بنے گا: ایرانی فوج کی دھمکی
بچی کے والد کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی آبادی کے لئے ہسپتال بہت چھوٹا ہے سہولتیں تو درکنار علاج بھی مناسب نہیں ملتا، حکومت کا اربوں روپیہ پتہ نہیں کہاں جاتا ہے، میں اپیل کرتا ہوں اس قوم پر رحم کریں جو چلتا ہے چلنے دیں۔






