5

6 ارب ڈالر کا منصوبہ ہوا میں اڑ گیا! نیویارک میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

(ویب ڈیسک )نیویارک سٹی کو کینیڈا سے پن بجلی فراہم کرنے والی 6 ارب ڈالر مالیت کی اہم ٹرانسمیشن لائن رواں ماہ دوسری مرتبہ بند ہو گئی، جس سے شہر کے صاف توانائی منصوبے کو ایک اور دھچکا لگا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چیمپلین ہڈسن پاور ایکسپریس (CHPE) ٹرانسمیشن لائن میں کیبل کی خرابی کے باعث بجلی کی ترسیل معطل ہوئی۔ یہ لائن نیویارک شہر کی بجلی کی ضرورت کا تقریباً 20 فیصد پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ہائیڈرو کیوبیک کے مطابق تکنیکی ٹیمیں خرابی کی نشاندہی اور اسے دور کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ نیویارک کے بجلی نظام کی نگرانی کرنے والے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق لائن کم از کم جمعہ تک بند رہنے کا امکان ہے۔

یہ منصوبہ ہائیڈرو کیوبیک اور نجی ایکویٹی کمپنی بلیک اسٹون کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا، جو 15 سال سے زائد عرصے کی منصوبہ بندی کے بعد رواں سال مئی میں فعال ہوا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں:پاکستانی نوجوانوں نے گھر بیٹھے ملک کو اربوں ڈالرز کیسے لا کر دئیے؟

رپورٹ کے مطابق نیویارک میں اس ہفتے درجہ حرارت تقریباً 100 ڈگری فارن ہائٹ (38 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچنے کا امکان ہے، جس سے بجلی کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔ لائن کی بندش کے باعث شہر کو عارضی طور پر ایسے بجلی گھروں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے جو ڈیزل ایندھن استعمال کرتے ہیں اور زیادہ آلودگی پیدا کرتے ہیں۔

CHPE لائن تقریباً 339 میل (546 کلومیٹر) طویل ہے جو کینیڈا کی سرحد سے نیویارک ریاست کے راستے کوئنز کے علاقے ایسٹوریا تک جاتی ہے، جہاں سے بجلی نیویارک سٹی کے گرڈ میں شامل ہوتی ہے۔

نیویارک آئی ایس او کے مطابق موسم گرما کی زیادہ طلب کے جائزوں میں اس لائن کی دستیابی کو لازمی نہیں سمجھا گیا تھا، اسی لیے حالیہ شدید گرمی کے دوران بجلی کا نظام قابلِ اعتماد انداز میں چلتا رہا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں