10

پمز ہسپتال کو کیپیٹل فائر سروسز نے کب کیا انتباہ کئے تفصیل سامنےآگئی

(بابر شہزاد تُرک) پمز ہسپتال  کو کیپٹل فائر سروسز کی جانب سے  2018 سے فائر سیفٹی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایات اور انتباہ جاری کیے جاتے رہے لیکن ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن نے ان ہدایات پر کوئی توجہ نہیں دی۔

 معلوم ہوا ہے کہ فائر سیفٹی ونگ نے 15 فروری 2018 کو پمز کا تفصیلی فائر آڈٹ کرکے رپورٹ ہسپتال انتظامیہ کو بھجوائی، جس میں فائر سیفٹی سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ اس کے بعد 17 مئی 2018 کو فائر سیفٹی کمپلائنس نوٹس جبکہ 2 جولائی 2019 کو پری انسپکشن نوٹس جاری کیا گیا۔

 ریکارڈ کے مطابق 8 جون 2023 کو پمز کے لیے ’’ہیزرڈ الرٹ‘‘ جاری کیا گیا، جس میں دیگر خامیوں کے علاوہ ایمرجنسی راستے بند ہونے اور کھلی وائرنگ کی نشاندہی کی گئی۔ فائر سیفٹی حکام نے ہسپتال انتظامیہ کو حفاظتی اقدامات مکمل کرنے کے حوالے سے متنبہ کیا۔

 9 مئی 2024 کو پمز انتظامیہ کو فائر سیفٹی پلان اور فائر ڈرلز یقینی بنانے کے لیے 3 ماہ کی حتمی مہلت دی گئی۔ فائر سیفٹی حکام کی جانب سے ضوابط کے تحت عدم تعمیل کی صورت میں جرمانے اور عمارت سیل کیے جانے کی وارننگز بھی دی گئیں۔

 10 نومبر 2025 کو جاری کیے گئے حتمی نوٹس میں فائر سیفٹی سے متعلق مطلوبہ اقدامات نہ کیے جانے کو ’’دانستہ غفلت‘‘ قرار دیا گیا اور متنبہ کیا گیا کہ حفاظتی انتظامات مکمل نہ ہونے کی صورت میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی تمام تر ذمہ داری ہسپتال انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: کرکٹر عماد وسیم کی بے وفائی کی تمام تفصیلات  سامنے آ گئیں 

 فائر سیفٹی سے متعلق تمام اہم وارننگز اور نوٹسز پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کو بھی موصول کرائے گئے۔ ان نوٹسز کی نقول وزارت صحت، کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ، میونسپل کارپوریشن اسلام آباد اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے متعلقہ حکام کو بھی ارسال کی جاتی رہیں۔

 پمز انتظامیہ کو مختلف اوقات میں فائر سیفٹی نظام بہتر بنانے، حفاظتی راستے بحال رکھنے، فائر سیفٹی پلان مرتب کرنے اور فائر ڈرلز یقینی بنانے سمیت متعدد اقدامات کی ہدایات جاری کی گئیں۔

 ان ہدایات پر مکمل عملدرآمد ہوا یا نہیں، اس کا تعین متعلقہ ریکارڈ اور ذمہ دار حکام کے مؤقف کی روشنی میں کیا جانا ہے۔

 پمز میں آتشزدگی کے حالیہ سانحے کے تناظر میں برسوں پر محیط ان فائر سیفٹی نوٹسز اور وارننگز نے ہسپتال میں حفاظتی انتظامات، ان پر عملدرآمد اور متعلقہ حکام کی نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  پاکستان کی کرکٹ ٹیم لارڈز میں دوسرا ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد کیا کرے گی، دلچسپ تفصیل سامنے آ گئی 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں