
(24 ںیوز)جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک سنگین معاشی بحران کا شکار، حکمران بتائیں پاکستان آج کہاں کھڑا ہے،پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلا کر معاشی، دفاعی اور سلامتی کی صورتحال پر غور کیا جائے۔
جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےسکھر میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارت چوتھی بڑی معیشت بن چکا، پاکستان کی صورتحال قوم کے سامنے رکھی جائے، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا،بھارت سے جنگ کے دوران جے یو آئی نے فوج کا ساتھ دیا، اللہ نے کامیابی عطا کی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کی بات نہ کریں، اس سے قوم تقسیم ہوگی،سندھ نئے صوبوں کی تقسیم کے لیے بالکل تیار نہیں،فاٹا انضمام کے وقت بھی جے یو آئی کی بات نہیں سنی گئی، آج تک وہاں پولیس اسٹیبلشمنٹ قائم نہیں ہو سکی،کینالز کی بات ہوئی، بتائیں کیا بنا سکے ہیں؟ قوم کو آپس میں نہ لڑائیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبوں کو تقسیم کرنا قوم کو تقسیم کرنے کے برابر ہے،سندھ کے وسائل، پانی اور عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں، ملک کے تمام صوبوں کے ساتھ انصاف اور عوام کے مسائل کو ترجیح دی جائے،غداری اور وفاداری کے حکمرانوں کے مقرر کردہ معیار تسلیم نہیں کریں گے۔
جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ ملک صرف آپ کا نہیں، ہمارا بھی ہے، وفاداری کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں،میرے خلاف لوگ چھوڑے جاتے ہیں، واردات کا طریقہ انگریزوں والا ہے، قبلہ درست کریں،46 سال آپ کو بھگت چکا ہوں، میں کیوں ڈروں؟ ہم خود کو کسی کا ماتحت نہیں سمجھتے، آپ کہیں اور ہم لبیک کہیں، ایسا ممکن نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ریاست ماں کی مانند ہے، اگر ریاست ماں ہے تو اسے عملی طور پر ثابت بھی کرنا ہوگا،بھارت، چین، ایران اور بنگلہ دیش سے تعلقات پر واضح اور سنجیدہ پالیسی بنائی جائے،غیر ذمہ دارانہ باتوں سے ملک کو مزید نقصان نہ پہنچایا جائے،جے یو آئی نے ماضی میں مشرف اور ایوب خان کے خلاف بھی جدوجہد کی اور جیلیں کاٹیں۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال تباہ ہے، 25 سال سے پاکستان پیچھے جا رہا ہے،حکومت کرنے کا حق اسے ہے جو عوام کے ووٹ اور اعتماد سے آئے،دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آنے والوں کو عوام کے مسائل حل کرنے چاہئیں،ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے بعض حوالوں سے علماء متفق نہیں۔
سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ قانون سے عدالت تک نظام کی بنیاد قانونی تعلیم پر ہے، قرآن و حدیث کا حصہ کہاں ہے؟قوم کو ایک فرد کے گرد بحث میں الجھانے کے بجائے نظام اور پالیسی پر بات کی جائے،اصل مسئلہ فرد نہیں بلکہ نظام اور پالیسی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کیا جائے، صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں :نئے صوبوں کیلئے رابطہ مہم تیز! علیم خان نے بڑا اعلان کردیا






