
(ویب ڈیسک)ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر سخت اور طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے کسی بیرونی لیبر کی ضرورت نہیں۔
ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کا محافظ بننا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے بیرونی لیبر نہیں چاہیے۔
انہوں نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرمپ کو گارڈ کی نوکری کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ لنزے گراہم کی قبر پر مجاور بن جائیں۔
ترامپ مدعی شده که میخواهد نگهبانِ تنگه هرمز شود، برای حراست از تنگه نیازی به کارگر خارجی نداریم! اگر خیلی اصرار به شغل نگهبانی دارد برود نگهبان قبر گراهام بشود.
— ابراهیم رضایی (@EbrahimRezaei14) July 13, 2026
ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی سلامتی اور خطے میں کشیدگی کے حوالے سے امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر لفظی جنگ تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ابراہیم رضائی کی جانب سے یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز اور خطے کی سلامتی سے متعلق اظہارِ خیال کیا تھا۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو ٹیلی فونک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھیں گے اور ممکن ہے اسے ہم ہی چلائیں، ہم اس آبنائے کے نگہبان بن جائیں گے، شاید اسے گارڈین اینجل آف دی اسٹریٹ کہیں، اور اس کے لیے ہمیں معاوضہ ملنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:پیرس کے قریب فونٹین بلو جنگل میں خوفناک آگ، ہزار ایکڑ رقبہ جل کر خاک
صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی حفاظت کے بدلے میں بہت زیادہ رقم حاصل کرے گا، ان کے بقول دیگر ممالک بہت خوش حال ہیں، وہ امریکا کے ساتھ ہیں اور امریکا سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ یہ ذمہ داری بلا معاوضہ انجام دے۔
اسی گفتگو میں ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایرانی فوجی سازوسامان کو شدید نقصان پہنچایا، انہوں نے کہا کہ ایران کے بیشتر عسکری آلات تباہ ہو چکے ہیں اور امریکی کارروائیوں میں فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار سمندری راستے سے منتقل کی جاتی ہے، اسی لیے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہتی ہیں۔






