
( ویب ڈیسک )روس میں ایندھن کے پیدا ہونے والے شدید بحران کا براہِ راست اثر اس کے پڑوسی اور طویل المدتی تجارتی شراکت دار ملک منگولیا پر پڑنا شروع ہو گیا ہے، یوکرینی ڈرون حملوں کی وجہ سے روسی ائل ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان اور موسمی ڈیمانڈ میں اضافے کے باعث روس میں پٹرول اور ڈیزل کی شدید قلیت پیدا ہو چکی ہے، جس نے منگولیا کی توانائی مارکیٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
منگولیا کی وزارتِ خوراک کے ڈائریکٹر پولورچلون تسینڈگومبو نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ روس میں درپیش اس بحران کی وجہ سے منگولیا میں ایندھن کی قیمتیں یکدم بڑھ کر 1.5 سے 2 ڈالر فی لیٹر تک پہنچ چکی ہیں، جو کہ بہار کے موسم میں صرف 1 ڈالر فی لیٹر تھیں۔ منگولیا کے مختلف شہروں میں پٹرول پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں جبکہ حکومت نے ایندھن کی فروخت پر کچھ حد بندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرول، ڈیزل مزید مہنگا ہو گا؟پریشان کن خبر آگئی !
اگرچہ روس نے پٹرول اور ڈیزل کی برآمدات پر پابندی لگا رکھی ہے، تاہم منگولیا کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں کے باعث اسے اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے مہینے میں روس کی جانب سے منگولیا کو ایندھن کی فراہمی میں کمی دیکھی گئی جو جون کے 186,400 ٹن سے کم ہو کر 173,000 ٹن رہ گئی۔
دوسری جانب منگولیائی حکام کا کہنا ہے کہ اس سال گندم کی اچھی فصل کی توقع کے باعث روس سے گندم کی برآمدات میں کمی کی جا سکتی ہے۔ یہ تمام صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب منگولیا کے وزیراعظم نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات کی ہے۔






