
(مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے سے متعلق بیان پر ردعمل سامنے آگیا۔
خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کا اپنے ردِ عمل میں کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کے انتظامات میں کسی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔
ایرانی مشترکہ فوجی کمان کے مطابق امریکا کو آبنائے ہرمز کے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی، بغیر رابطے کے امریکی انتظامی سرگرمیوں کی مزاحمت کی جائے گی۔
فوجی کمان نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے بجائے متبادل راستوں سے آمدورفت کی کوشش پر بھی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی فوجی کمان کے مطابق امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کو ایران کی خودمختاری کے خلاف سمجھا جائے گا اور اسے ایران کی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا۔
ایرانی کمان نے مزید کہا کہ ایسا اقدام خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور یہ جنگ خطے کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
ادھر ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے بیان میں کہا ہے کہ ایران اس وقت آبنائے ہرمز کا دفاع کررہا ہے،آج اپنا دفاع نہ کیا تو مستقبل میں دشمن کے ہاتھوں مجبور ہوں گے،مشیر ایرانی سپریم لیڈر کاکہناتھا کہ کوئی محب وطن ایرانی آبنائے ہرمز سے پسپائی کا تصور بھی نہیں کر سکتا، آبنائے ہرمز کی سٹریٹجک حیثیت اور معاشی اہمیت کا کوئی متبادل نہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہاہےہم آبنائے ہرمز کو کنڑول میں لے رہے ہیں ۔
فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر کاکہناتھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہواتھا جسے ایران نے توڑ دیا،ہم اب آبنائے ہرمز کا تحفظ کریں گے۔ان کاکہناتھا کہ آبنائے ہرمز پر سیکیورٹی کیلئے ہمیں معاوضہ ملنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیاکہ امریکا ایران کے فوجی اثاثے تباہ کر چکا ہے اور جب بھی ایران کی جانب سے ڈرون بھیجے جاتے ہیں، امریکا ان کا سخت جواب دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف سخت حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور امریکا اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہم آبنائے ہرمز کو کنڑول میں لے رہے ہیں ،سیکیورٹی کیلئے ہمیں معاوضہ ملنا چاہئے؛امریکی صدر






