
( ویب ڈیسک )یورپی ملک لتھوانیا میں مشکوک ڈرون کی اطلاع پر نیٹو کا جنگی طیارہ فوری طور پر فضا میں بھیجا گیا، تاہم قریب پہنچنے پر پتا چلا کہ ریڈار پر نظر آنے والا مشکوک ہدف کوئی ڈرون نہیں بلکہ پرندوں کا بڑا جھنڈ تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ شمالی لتھوانیا کے شہر شیاؤلیائی میں پیش آیا، جہاں اطالوی فضائیہ نیٹو کے بالٹک ایئر ڈیفنس مشن کے تحت تعینات ہے۔
رپورٹ کے مطابق دفاعی نظام نے محدود فضائی حدود میں ایک نامعلوم اور کم بلندی پر پرواز کرنے والی چیز کی نشاندہی کی۔ مشرقی یورپ میں موجودہ کشیدہ صورتِ حال اور فضائی حدود کی سخت نگرانی کے باعث حکام نے اسے ممکنہ خطرہ سمجھتے ہوئے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا۔
کمانڈ سینٹرز نے جنگی طیاروں کو فضا میں بھیجنے کی اجازت دی تاکہ مشکوک ہدف کا پیچھا کرکے اس کی شناخت کی جاسکے۔
جب طیارے ریڈار سے ملنے والی معلومات کے مطابق ہدف کے قریب پہنچے تو پائلٹس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہاں کوئی ڈرون یا دشمن طیارہ موجود نہیں تھا بلکہ درجنوں پرندے ایک ساتھ پرواز کر رہے تھے۔
Earlier today, Lithuania briefly closed Vilnius airport and NATO scrambled a fighter jet after a suspected drone was detected in its airspace. The object turned out to be a flock of birds, and the airport reopened 38 minutes later after the NATO jet visually identified it. Source: Reuters
— Clash Report (@clashreport) September 13, 2026
متعلقہ مرکز نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی ریڈار ریڈنگ میں پرندوں اور ڈرونز کے چھوڑے گئے نشانات ایک جیسے ہوسکتے ہیں۔
واقعے سے قبل اتوار کو مشتبہ فضائی سرگرمی کے باعث لتھوانیا کے ولنیئس انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی عارضی طور پر بند کردیا گیا تھا۔
تاہم صورتِ حال واضح ہونے کے بعد ایئرپورٹ صرف 38 منٹ بعد دوبارہ کھول دیا گیا۔ لتھوانیا کے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سینٹر نے بھی ایئرپورٹ کی بندش اور دوبارہ کھولنے کی تصدیق کی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب فن لینڈ، ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا کی فضائی حدود میں ڈرونز کی سرگرمیوں نے سکیورٹی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ یوکرین جنگ کے باعث نیٹو کی روس سے متصل شمالی سرحدوں پر فضائی نگرانی پہلے ہی سخت کردی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید ریڈار نظام زمین کے قریب پرواز کرنے والی چھوٹی اور سست رفتار اشیا کی نشاندہی کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جن میں چھوٹے جاسوسی ڈرونز بھی شامل ہیں۔ تاہم ایک خاص بلندی پر ایک ساتھ اڑنے والے بڑے پرندوں کا جھنڈ بھی ریڈار کی لہروں کو اس انداز میں واپس بھیج سکتا ہے کہ وہ کسی مصنوعی یا انسانی ساختہ فضائی شے جیسا دکھائی دے۔
یوں ایک ممکنہ سکیورٹی خطرے کے طور پر شروع ہونے والا یہ واقعہ آخرکار پرندوں کے جھنڈ کی شناخت کے بعد ختم ہوگیا۔






