
(24نیوز)ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر ایک مرتبہ پھر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اپنی مقرر کردہ شرائط پوری ہونے تک واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوگا۔
ایرانی سلامتی کونسل کے رہنما محسن رضائی نے امریکی قیادت کے بیانات کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام کو ایسے بیانات سے گمراہ نہیں ہونا چاہیے۔
محسن رضائی کے بیان کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی رابطوں کے امکانات کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہوگئی ہے،دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاملات پر طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں جبکہ مذاکرات کی بحالی بھی متعدد شرائط اور تحفظات سے جڑی ہوئی ہے۔
ایرانی سلامتی کونسل کے رہنما محسن رضائی نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں، ان کے مطابق امریکا کبھی بات چیت سے انکار کرتا ہے اور کبھی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتا ہے۔
محسن رضائی نے ایرانی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ تہران ایسے متضاد بیانات کو مذاکرات کے حوالے سے واضح پیش رفت نہیں سمجھتا، ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے فیصلوں اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول سبسڈی لینے والوں کیلئے ایک اور بڑی خوشخبری!
محسن رضائی نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے اپنی شرائط سے پیچھے نہیں ہٹے گا،ان کے مطابق جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں اس وقت تک امریکا کے ساتھ مذاکرات کا امکان نہیں ہے۔
ایرانی رہنما نے کہا کہ تہران کسی بھی ممکنہ بات چیت کو اپنے قومی مفادات اور مقررہ اصولوں کی بنیاد پر دیکھتا ہے،ایران پر کسی قسم کا دباؤ ڈال کر اسے اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
محسن رضائی نے اپنے بیان میں تیل اور سمندروں سے متعلق معاملات کا بھی ذکر کیا ، انہوں نے کہا کہ ان شعبوں سے متعلق صورتحال میں تبدیلی آچکی ہے اور موجودہ حالات کو ماضی کے تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا۔
ایران اور امریکا کے درمیان مختلف سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں،دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان مذاکرات کی بحالی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے بارہا یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے اس کی بنیادی شرائط کو تسلیم کرنا ضروری ہوگا،دوسری جانب امریکا بھی ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی اور مطالبات رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں:حوثیوں کے سعودی عرب کے3شہروں پر حملے، 13 افراد زخمی
ایرانی رہنما کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی اور سفارتی صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے،ایسے حالات میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی عالمی سطح پر بھی اہم پیش رفت سمجھی جائے گی۔
محسن رضائی نے ایرانی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ امریکی قیادت کے متضاد بیانات سے متاثر ہونے کے بجائے ایران اپنی پالیسی اور قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا۔






