(وسیم عظمت)ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں فیفا ورلڈ کپ کے 16 کے راؤنڈ کے پہلے میچ میں ورلڈ کپ کا ایک میزبان فٹ بال کے میدان سے باہر ہو گیا۔ مراکش نے کینیڈا کوتین گول سے ہرا کر خود کوارٹر فائنل کوالیفائی کر لیا اور میزبان کو کھیلنے اور میزبانی کرنے کے دوہرے جھنجٹ سے نجات دلوا کر صرف میزبانی پرتوجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔
آج ہوسٹن میں فیفا ورلڈ کپ کے 16 کے راؤنڈ کا پہلا میچ کھیلا گیا جس کے نتیجے میں تین میں سے ایک میزبان کھل کے میدان سے فارغ ہو گیا۔ باقی دو میزبانیوں امریکہ اور میکسیکو کے میچ باقی ہیں۔ امریکہ کو انگلینڈ کا سامنا ہے اور میکسیکو کے حصے میں یورپ کی کہنہ مشق فٹبال لوور نیشن بیلجئیم کی ٹیم آئی ہے۔
کینیڈا کے بعد میکسیکو اور امریکہ بھی ہاریں گے
فٹبال کے شائق مبصر قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ سولہ کے راؤنڈ میں باقی دو میزبانوں کو بھی کھیل کے میدان میں مزید مشقت کرنے سے نجات مل جائے گی اور اس کے بعد تینوں میزبان فٹبال کے میگا ایونٹ کی میزبانی اور کوارٹر فائنل کی ٹیموں اور کھیل دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے آئے ہوئے مہمانوں کی مہمانداری کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔
مراکش اور کینیڈا کے میچ میں مراکش نے دوسرے ہاف کی ابتدا میں کینیڈا کو پہلا گول کر دیا۔ پہلے ہاف میں دونوں ٹیمیں کوئی گول نہیں کر سکی تھیں۔ مراکش نے دوسرا گول دسرے ہاف میں کھیل کے مجموعی 82 ویں منٹ میں کیا۔ یہ گول بھی پہلے گول کی طرح عزیدین اوناہی نے کیا۔

مراکش کے لئے تیسرا گول دوسرے ہاف کے انجری ٹائم کے 8 ویں منٹ میں کیا۔ یہ گول صوفیانے رحیمی نے کیا ۔

میچ کے 49 ویں منٹ میں کینیڈا کے کھلاڑی نے اپنی ڈی کے قریب دانستہ سنگین نوعیت کی اڑنگی دے کر مراکش کے سٹرائیکر کو گرا دیا تھا۔ اس اڑنگی سے مراکشی کھلاڑی کو تو جو چوٹ لگی وہ تھوڑی دیر بعد دوبارہ کھیلنے کے قابل ہو گئے لیکن اس اڑنگی کی سزا دیتے ہوئے ریفری نے ییلو کارڈ دکھانے کے ساتھ جو فری ہٹ دی اس سے ہونے والے گول نے کینیڈا کو سنگین صورتحال سے دوچار کر دیا ۔
مراکش کی جانب سے 16 کے راؤنڈ کے پہلے میچ میں پہلا گول عزیدینی اوناہی نے کیا۔ یہ ڈی کے کنارے سے سیدھی ہٹ تھی جو کینیڈا کے کئی کھلاڑیوں اور گول کیپر کے بیچ میں سے گزرتی ہوئی گول پوسٹ میں چلی گئی۔
یہ بھی پڑھیئے: فیفا ورلڈ کپ کا بہترین میچ؛ ارجنٹینا نے کیپ وردی کو 2-3 سے شکست دے کر اپنا تاج بچالیا
مراکش فیفا ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنل میں جانے والی پہلی افریقی اور پہلی مسلم ٹیم ہے۔ افریقہ (اور ایشیا) سے دوسری ٹیم مصر ہے جو 16 کے راؤنڈ میں موجودہ چیمپئین ارجنٹینا کے ساتھ 7 جولائی کو میچ کھیلے گی۔ مصر اپنا میچ جیت گئی تو یہ ایک منفرد موقع ہو گا جب افریقہ سے دو مسلمان ملکوں کی ٹیمیں فیفا ورلڈ کپ کا کوارٹر فائنل کھیل رہی ہوں گی۔ مراکش اور مصر دونوں کا تعلق شمالی افریقہ سے ہے اور مصر کو ایشیائی اور عرب ملک بھی تصور کیا جاتا ہے۔
آج کے میچ میں ابتدا سے ہی کینیڈا کی ٹیم نے سخت جارحانہ کھیل کھیلا لیکن مراکشی کھلاڑیوں کی نمایاں طور پر برتر مہارتوں کے سامنے کینیڈین ٹیم کی جارحیت نہ چلی اور کھیل پر مراکش کا کنٹرول نمایاں رہا۔

مراکشی کھلاڑیوں نے ابتدا میں حملے کم کئے اور جارحیت کا سامنا نسبتاً تحمل سے کیا لیکن کوئی بھی موقع ملنے پر گول پوسٹ تک جانے میں انہوں نے کوئی تاخیر نہیں کی۔
پہلے ہاف کے آخری لمھوں میں گول کر کے مراکش کے عزیدن اوناہی نے میزبانی ٹیم کو قدرے مایوسی کی طرف دکھیل دیا جو میچ کے آخر تک مسلسل بڑھتی گئی۔
فرانس یا پیراگوئے؛ وارٹر فائنل میں مراکش کا سامنا کس سے ہو گا؟
اب جبکہ مراکش راؤنڈ آف 16 جیت چکا ہے، تو اس کا کوارٹر فائنل میچ دو میں سے ایک ٹیم کے ساتھ ہوگا:فرانس یا پیراگوئے۔
اگر 16 کے راؤنڈ میں فرانس اور پیراگوئے کے میچ میں فرانس آگے آتا ہے تو یہ مراکش کے لیے ایک بہت بڑا امتحان ہوگا۔
2022 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھی فرانس اور مراکش آمنے سامنے آئے تھے اور فرانس نے مراکش کو شکست دی تھی، اس لیے اس مقابلے میں ایک تاریخی شکست کا نفسیاتی اثر بھی شامل ہو جائے گا۔ اگر دوسری طرف پیراگوئے ایک اور اپ سیٹ کر دیتا ہے، تو مراکش کے ساتھ میچ میں یہ ٹیم مراکش کیلئے فرانس سے بھی زیادہ بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ فرانس کا تو مراکش چار سال پہلے اہم میچ مین سامنا کر چکی ہے، پیراگوئے اس کے لئے نسبتاً سٹرینجر ہو گی اور وہ بھی ایسا سٹرینجر جو فرانس ک ہرا کر اسے فرانس کی نسبت آسان ہدف سمجھتے ہوئے میدان میں اترے گی۔

تب بھی ایکسپرٹ تصور کریں گے کہ فرانس کی نسبت پیراگوئے کے ساتھ کوارٹر فائنل میچ میں مراکش کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکانات نسبتاً بہتر ہو سکتے ہیں۔
اگر مراکش کوارٹر فائنل میں فرانس یا پیراگوئے سے جیت گیا تو اس بریکٹ کے سیمی فائنل میں مراکش کا ممکنہ سامنا پرتگال، سپین، امریکہ اور بیلجئیم میں سے کسی ایک سے ہو گا۔ یہ ایک وہی ہو گا جو راؤنڈ آف 16 سے سرخرو ہو کر کوارٹر فائنل میچ بھی جیت پائے گا۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوارٹر فائنل میں مراکش کو نسبتاً مشکل ٹیم سے کھیلنا پڑے گا لیکن یہ میچ جیت گئی تو اس کا سیمی فائنل قدرے آسان ہو سکتا ہے۔
یعنی اگر مراکش کو فائنل تک جانا ہے تو اس کے راستے میں غالب امکان یہ بنتا ہے کہ:
فرانس (یا پیراگوئے) پھر اسپین/پرتگال/بیلجیم/امریکہ میں سے کوئی ایک ، پھر فائنل۔
یہ راستہ آسان ہرگز نہیں، لیکن مراکش نے اب تک جس نظم، دفاعی مضبوطی اور موقع پر حملہ کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے، اس کے بعد اسے کسی بھی بڑی ٹیم کے لیے آسان حریف نہیں کہا جا سکتا۔
اگر پیراگوئے فرانس کو ہرا کر کوارٹر تک چلا جائے گا تو وہ مراکش کو ہرا کر سیمی فائنل میں سپین/پرتگال/بیلجیم/امریکہ میں سے کسی ایک سے ٹکرائے گا۔






