ضلع قلعہ عبداللہ:ـقلعہ عبداللہ میں حکومت بلوچستان کی جانب سے 19 نومبر 2025ء کو قبرستان چوکی قلعہ عبداللہ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے پولیس سب اسسٹنٹ انسپکٹر (اے ایس آئی) سعداللہ خان عرف ڈاکٹر کے لواحقین کو شہداء پیکیج کے تحت ایک کروڑ 22 لاکھ روپے کا امدادی چیک حوالے کر دیا گیا۔یہ امدادی چیک شہید اے ایس آئی سعداللہ خان کے بیٹے جہانگیر خان کو ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انجینئر نجم الدین کبزئی کی موجودگی میں دیا گیا۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ملک محمد حنیف اچکزئی، پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر نظر محمد خان کاکڑ، اکاؤنٹ آفیسر فیصل خان، انسپکٹر حبیب اللہ خان سمیت کاکوزئی قوم کے معتبرین، شہید کے بھائی محمد حنیف اور سیف اللہ بھی موجود تھے۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام، سیاسی و قبائلی عمائدین اور شہید کے اہلِ خانہ نے شہید اے ایس آئی سعداللہ خان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے کہا کہ ملک، قوم اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شہید سعداللہ خان نے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی جان قربان کی، جو ایک عظیم قومی خدمت ہے۔مقررین نے کہا کہ پولیس فورس کے جوان امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ شہید سعداللہ خان کی قربانی پولیس فورس اور معاشرے کے لیے عزم، فرض شناسی اور خدمت کی مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت اور متعلقہ ادارے اپنا کردار جاری رکھیں گے، جبکہ شہید کے اہلِ خانہ نے امدادی پیکیج کی فراہمی پر حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام اور متعلقہ تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔شہید کے اہلِ خانہ اور قبائلی عمائدین نے شہید سعداللہ خان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن، عوامی تحفظ اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے اپنا کردار جاری رکھا جائے گا۔
2






