
( ویب ڈیسک )ایران نے اپنی سرزمین پر امریکا کے تازہ حملوں کی مذمت کی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکا کے حالیہ حملوں نے چند ماہ کی تمام سفارتی کوششوں کو بے سود بنا دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایران کے ضروری انتظامات میں کھلی مداخلت کی، جس سے ناصرف وہاں دوبارہ عدم تحفظ کی صورتحال پیدا ہوئی بلکہ بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی میں بھی خلل پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی حملوں میں شدت، ایران کا جوابی وار ، خطے میں کشیدگی انتہا پر
ہفتے کے روز مسقط میں ہونے والے مذاکرات کا محور آبنائے ہرمز کا انتظام تھا لیکن امریکا نے عمان پر دباؤ ڈال کر اس معاملے پر کسی نتیجے تک پہنچنے کا عمل روک دیا۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، امریکی سینٹکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے مختلف علاقوں میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے امریکی تنصیبات پر جوابی حملوں اور ایک امریکی کروز میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹکام کے مطابق قشم جزیرے پر 10 سے 11 میزائل داغے گئے، جبکہ بندر عباس اور جاسک میں بھی متعدد دھماکے ہوئے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں، بحری جنگی جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی مرتبہ سمندری ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔






