7

پانچ خلیجی ملکوں پر ایرانی حملے دو ثالث بھی نشانہ بن گئے کشیدگی کا نیا عروج

(ویب ڈیسک) ایران نے بڑے پیمانے پر امریکی حملوں کے جواب میں اتوار کی صبح اردن، کویت، عمان اور قطر پر میزائل اور ڈرون حملے کئے جس کے بعد سے علاقہ میں کشیدگی ایک بار پھر انتہا کو پہنچ گئی ہے۔

امریکہ کی فوج نے ٓج اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے علاقہ میں قبرص کے پرچم بردار کمرشل بحری جہاز پر پاسداران انقلاب کے تباہ کن حملے کے بعد ایران کی ایک سو چالیس سے زیادہ تنصیبات پر حملے کئے۔ اس امریکی حملے کے بعد  پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز مین بحری ٹریفک ایک بار پھر روک دی اور پانچ خلیجی ملکوں پر حملے کئے جن کا نشانہ ایرانی اعلانات کے مطابق امریکہ تنصیبات تھیں یا امریکہ کی مدد کرنے والی مقامی تنصیبات تھیں۔ ایران کے آج صبح اردن، کویت، عمان اور قطر پر ڈرون اور میزائلوں سے حملہ کرنے کے بعد خلیج میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔

گلف کوآپریشن کونسل، قطر، کویت اور عمان نے ایران کے حملوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت ایک بار پھر رک گئی ہے۔ اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے ایم او یو پر عملدرآمد کرنے کے لئے   ثاثوں کے ذریعہ بات چیت کے سلسلہ میں بھی تعطل آ گیا ہے۔
ایران کے آج کے حملوں کے نتیجہ میں کویت میں ملبہ گرنے سے  ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔  قطر نے اپریل کے بعد پہلی بار ’کشیدگی میں خطرناک اضافہ‘ کی مذمت کی ہے۔ امریکی حملے میں کم از کم ایک ایرانی فوجی مارا گیا۔

ایران کے حملوں کا نشانہ کون سی تنصیبات تھیں؟

ایران کے  پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے  اردن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ڈرون ہینگرز کو تباہ کردیا، کویت میں امریکی ریڈار سائٹ کو نشانہ بنایا، عمان میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی مدد اور ایندھن بھرنے کے پلیٹ فارم پر حملہ کیا، اور قطر میں ایک جیٹ جہازوں کےمینٹیننس سینٹر اور کمانڈ کی سہولت کو تباہ کردیا، اپریل کے بعد یہ قطر پر پہلا ایرانی حملہ ہے۔ قطر آج کل کئی ہفتوں سے ایران کے ساتھ ثالثی میں پیش پیش تھا۔ 

ایران نے  جمعہ کے روز دھمکی دی تھی کہ اگر ایران پر امریکی حملے ہوئے تو وہ اسرائیل پر بھی حملے کرے گا لیکن آج اس دھمکی پر عمل نہیں کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اردن کے فوجی ذرائع نے فوج کے ایک بیان میں کہا کہ “ایرانی سرزمین سے داغے گئے تین میزائل صبح کے وقت مملکت کے مختلف مقامات پر گرے، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ نقصان معمولی مادی نقصانات تک محدود ہے”۔

کویت کی مسلح افواج نے کہا کہ انہوں نے کویت کی فضائی حدود کے اندر دشمن کے فضائی اہداف کو روکا، جب کہ قطر کی حکومت نے کہا کہ قطر  پر حملے سے ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے بتایا کہ اس کے دفاعی نظام نے ایران سے میزائل اور ڈرون مارے ہیں۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بعد میں کہا کہ دن کے اوائل میں پائے جانے والے میزائل کے خطرات ملک کی سرحدوں سے باہر تھے۔

یہ بھی پڑھیئے:  ’’وعدے پورے کرو ورنہ قیمت چکانے کیلئے تیار رہو‘‘ایران کا دوٹوک پیغام

عمان کے مسندم کے علاقے میں عمان کی کئی سائٹس کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، اس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے یہ بتائے بغیر کہ کوئی جانی نقصان ہوا ہے، ان حملوں کی تصدیق کی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ کئی دنوں سے ہونے والے حملوں کے سلسلے کے دوران  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو بار جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرن دیا تھا۔ لیکن اس دوران  دو خلیجی ثالثوں کے ذریعہ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطہ موجود رہا۔ 

گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں طے ہونے والے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کے تحت کم از کم ساٹھ روز کیلئے جنگ بندی ہوئی تھی اس میمورنڈم کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کے درمیان 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی کو روکنا اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے لئے کھولنا تھا۔ اس میمورنڈم سے پہلے بھی جنگ تو بند تھی لیکن آبنائے ہرمز بھی بند تھی۔ جنگ بندی کا میمورنڈم سائن ہو جانے کے بعد بھی جنگ تو بند رہی لیکن آبنائے کی  28 فروری سے پہلے والی آمدورفت بحال نہیں ہوئی۔ اس صورتحال میں پیچیدگی بعض جہازوں پر حملوں سے پیدا ہوئی جنہیں امریکہ نے ایران کی ساحلی تنصیبات پر حملوں کا جواز قرار دیا۔

 امریکہ کے صدر  ٹرمپ نے مذاکرات جاری رکھنے کے دروازے کھلے چھوڑے ہیں لیکن مذاکرات کی کوششیں کسی نتیجہ تک پہنچنے سے پہلے ہی نئے حملے ہو جاتے ہیں۔

تازہ ترین جھڑپوں کے بعد ایران کے  مذاکرات کار محمد باقر غالب نے اتوار کو ایکس پر پوسٹ کیا: “یک طرفہ سودوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ ہم نے آپ سے کہا: اپنی بات پر عمل کریں یا قیمت ادا کریں۔ حقیقت دستک دے رہی ہے۔”

قطر پر حملہ اور کشیدگی میں اضافہ
میڈیا رپورٹوں کے مطابق تہران کے تازہ ترین حملوں نے رفتار اور اہداف میں تیزی سے اضافہ کیا۔ حالیہ ہفتوں میں ایران نے کویت اور بحرین کو نشانہ بنایا تھا جبکہ اپریل کے اوائل سے قطر اور مئی کے شروع سے متحدہ عرب امارات پر حملے کرنے سے واضح طور پر گریز کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس دوران عمان عمومی طور پر ایرانی حملوں سے بچا رہا تھا۔ آج صبح کے حملوں میں کویت اور بحرین کے پرانے اہداف کے ساتھ  اردن، متحدہ عرب امارات، قطر اور اس کے ساتھ  عمان بھی ایرانی حملوں کا نشانہ بن گئے۔

دوحہ میں قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان اور کویت کو نشانہ بنانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قطر اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے کئے گئے نئے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے

قطر پر حملے سے ایک ایسی ریاست کو نشانہ بن گئی جس کی ثالثی کی کوششیں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ دوحہ نے کہا ہے کہ جب تک اس پر حملہ ہوتا ہے وہ ثالث کے طور پر کام نہیں کرے گا۔

Caption ایرانی پاسداران انقلاب کی ایک ویڈیو کا سکرین شاٹ بظاہرآج  12 جولائی 2026 کو ڈرون لانچ کرتے ہوئے دکھا رہا ہے (فارس نیوز ایجنسی)

ایک اور ثالث عمان بھی نشانہ بن گیا

عمان نیوز ایجنسی نے ایکس پر کہا کہ “سلطنت عمان اس حملے کی مذمت کا اعادہ کرتا ہے”، جو کہ آبنائے ہرمز میں سیکورٹی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایران کے وزیر خارجہ کی میزبانی کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔

ایک بار پھر عدم استحکام اور انرجی کی قیمتوں میں اضافہ

میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ جنگ نے خلیج کو غیر مستحکم کر دیا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے کی مؤثر ناکہ بندی نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے عالمی افراط زر میں اضافہ ہوا ہے۔

Caption  جون کی 20 تاریخ کو امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کا ایم او یو سائن کرنے والے ایرانی وفد کے ایک رکن ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی (دائیں) اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالب (دوسرے دائیں) کے ساتھ امریکہ کے ساتھ معاہدے پر بات چیت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ جانے والے طیارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ 

اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کا رابطہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ایک فون کال میں علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، پاکستان بھی  امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے اہم ثالث رہا ہے، ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے آج عباس عراقچی اور اسحاق ڈار کے درمیان رابطہ کے متعلق رپورٹ کیا۔

وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ فون کال کے دوران “کشیدگی کو  کم کرنے” اور ایران تنازعہ کے فریقوں سے “تحمل کا مظاہرہ” کرنے کی درخواست کی ۔ “دونوں رہنماؤں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔”

اسحاق ڈار  نے مزید اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔

ٹول فری عمانی کوریڈور کی تجویز پر بات چیت کے بعد دوبارہ جنگ!

امریکہ اور ایران کی جنگ کا تازہ ترین دور ہفتے کے روز عمان میں عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسیدی کے درمیان بات چیت کے کچھ گھنٹے بعد سامنے آیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کے روز کہا کہ مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور ٹرانزٹ کے انتظامات کو مربوط کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے قانونی اور تکنیکی وفود نے میری ٹائم سیکورٹی اور سیفٹی پر تبادلہ خیال کیا، اور ایک مشترکہ مفاہمت تک پہنچنے کے لیے سیاسی اور تکنیکی-قانونی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جس میں قطری وفد بھی موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   آبنائے ہرمز میں 2 الگ بحری راہداریوں کے قیام کی تجویز  

عمان کے دارالحکومت مسقط مین ہونے والی اس بات چیت کا بنیادی نکتہ عمان کی یہ تجویز تھی کہ عمان کی بحری حدود میں آنے والے آبنائے ہرمز کے حصہ میں عمان آزادانہ بحری نقل و حمل کی اجازت دے گا، جو بحری جہاز ایرانی بحری حدود میں آنے والے علاقہ سے گزرنا چاہیں وہ ادھر سے گرنے کے لئے ایرانی انتظام کو قبول کریں تو عمان کو اس سے کوئی غرض نہیں۔

عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ مذاکرات کار “تکنیکی اور سیاسی سطحوں پر” بات چیت جاری رکھیں گے۔ ان مذاکرات پر مزید پیش رفت ہونے ے پہلے ہی امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے شروع ہو گئے اور خود عمان بھی ایرانی حملوں کی زد میں آ گیا۔

Caption یہ ہینڈ آؤٹ تصویر 23 جون، 2026 کو لی گئی تھی، اور پاکستان کے ایوان صدر کی طرف سے جاری کی گئی تھی جس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری  اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار  کو ایران کے صدر مسعود پیزشکیان  اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ  ایوان صدر میں ملاقات  کے دوران بات چیت  کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پاکستان نے جنگ بندی کے لئے سب سے زیادہ سرگرمی کے ساتھ کوششیں کیں جو آج اتوار کے روز بھی جاری رہیں۔

انتقام کی دھمکی، تناظر میں ایک خطرناک پہلو کا اضافہ

ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ایک تحریری بیان میں ہفتے کے روز اپنے پیشرو سپریم لیڈر  اور والد کی موت کا بدلہ لینے کی دھمکی دی گئی ہے، جو 28 فروری کو جنگ کے پہلے روز  ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران کے نئے رہنما کو عوام میں نہیں دیکھا گیا۔ اب روپوشی کے دوران ان کا انتقام کے متعلق بیان سامنے آیا ہے، اس سے پہلے یہ ہی بات پاسداران ایران کے سربراہ نے ایرانی میڈیا میں سامنے آنے والے بیان میں کہی تھی۔

آبنائے ہرمز درجنوں ایٹم بموں سے بھی زیادہ اہم ; محسن رضائی کا بیان
امریکہ نے اس سے قبل ایران پر اس وقت حملہ کیا تھا جب ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک جہاز کو نشانہ بنایا، جس سے کنٹینر بردار جہاز میں آگ لگ گئی اور عملے کو اس جہاز کو  چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔  انجن روم پر حملے کے نتیجہ میں جہاز کےعملے کا ایک ہندوستانی رکن لاپتہ ہو گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ اب بھی یہ آبنائے ہی  مذاکرات میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ یکم مارچ کو ایران نے جنگ کے دوسرے روز  اسے، بارودی سرنگیں بچھا کر اور چھوٹی کشتیوں سے نگرانی شروع کر کے،  بند کر دیا تھا، جس سے  یہ اہم سمندری راستہ رک گیا تھا جہاں سے دنیا کا پانچواں حصہ خام تیل گزرتا ہے۔ اگرچہ لڑائی ختم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے تحت اس آبنائے کو دوبارہ کھولا جانا تھا، لیکن جھڑپوں کے جاری رہنے کے باعث جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے ایک انتباہی فائر کرنے کے بعد آبنائے کو دوبارہ بند کر دیا؛ یہ فائر اس جہاز کو لگا جو ایران کے  غیر منظور شدہ راستے پر سفر کر رہا تھا، اور اتوار کو ایران نے کہا کہ اس نے ایک دوسرے جہاز کو بھی ناکارہ بنا دیا ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اب یہ آبنائے اس وقت تک بند رہے گی جب تک “اس خطے میں امریکی مداخلت کا خاتمہ” نہیں ہو جاتا۔

یہ بھی پڑھیئے:  آبنائے ہرمز پر طاقت کے ذریعے کنٹرول حاصل کیا، اس کا دفاع بھی کریں گے: ایران 

ایران کے سپریم لیڈر کے ایک مشیر نے اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز “درجنوں ایٹمی بموں” سے بھی زیادہ اہم ہے، اور انہوں نے اس “اہم آبی گزرگاہ کے تحفظ “کا عزم ظاہر کیا۔

آئی ایس این اے (ISNA) نیوز ایجنسی کے مطابق، محسن رضائی نے کہا کہ “یہ سٹریٹجک گزرگاہ درجنوں ایٹم بموں سے زیادہ اہم ہے، اور اسلامی جمہوریہ ایران اس کا تحفظ کرے گا۔” مغربی ممالک ایران پر ایٹم بم بنانے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں، لیکن تہران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔

Caption  جمعہ 12 جولائی 2026 کو اے ایف پی ٹی وی (AFPTV) کی ویڈیو فوٹیج سے لی گئی یہ تصویر کارگو جہازوں کو متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر خور فکان کے مقام پر آبنائے ہرمز کے قریب لنگر انداز دکھاتی ہے۔ 

ایران کے جوہری پروگرام کو ہتھیاروں کی شکل اختیار کرنے سے روکنا امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مہم کا بنیادی مقصد تھا جب اس کا آغاز ہوا تھا۔ اسرائیل امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہونے والی بات چیت میں شامل نہیں تھا اور اطلاعات کے مطابق وہ لڑائی میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے واشنگٹن کی جانب سے گرین سگنل (اجازت) کا منتظر ہے۔

اتوار کی صبح امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس نے اپنے حملوں میں تقریباً 140 اہداف کو نشانہ بنایا—جو گزشتہ دنوں حملوں کے دو مراحل کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں—آج کے حملوں میں امریکہ نے  میزائل  اور  ڈرون لانچ کرنے کی سائٹس، گولہ بارود کے ذخائر، مواصلاتی آلات اور دیگر مقامات کو ہدف بنایا۔ 

یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے عمان میں شہریوں کو  کمرشل فلائٹس سے واپسی کا مشورہ دے دیا، کئی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت 

سینٹ کوم کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے شہری جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے کی ایران کی صلاحیت کمزور ہو جائے گی۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے آن لائن لکھا: ”ایران نے غلط فیصلہ کیا، اب انہیں اس کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔“

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، رات کے وقت کیے گئے حملوں میں ایران کا ایک فوجی ہلاک ہوا۔

مہر اور تسنیم نیوز ایجنسیوں نے ایک مقامی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ”اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج کی بحریہ کے لیفٹیننٹ حمید رضا دہقانی، گزشتہ رات جنوبی ایران کی بندرگاہ ’جاسک‘ پر امریکہ کی جانب سے کیے گئے مجرمانہ اور دہشت گردانہ حملے کے دوران شہید ہو گئے۔“

امریکہ کے نئے حملوں سے ایران کی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت کم ہوئی یا نہیں، اس کا تعین تو نہیں کیا جا سکتا البتہ ان حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک ایک بار پھر  بند ہے اور انٹرنیشنل مارکیٹوں میں خام تیل کی قیمتیں اور بہت سی کموڈٹیز  سے متعلق کمپنیوں کے شئیرز کی قیمتیں نیچے جا رہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیئے: گلف کوآپریشن کونسل نے ایران کے حملوں کی شدید مذمت کر دی 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں