8

تھائی لینڈ میں ڈائنوسار کی انتہائی نایاب نسل کی باقیات دریافت

(ویب ڈیسک)تھائی لینڈ میں ڈائنوسار کی انتہائی نایاب نسل کی باقیات دریافت ہوگئیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماہرین حیاتیات نے تھائی لینڈ کے شمال مشرق میں واقع صوبے کالاسین میں ڈائنوسار کی ایک نئی نسل کی باقیات دریافت کی ہیں,یہ ایک لمبی گردن والا ڈائنوسار ہے جس کی خوراک درختوں کے پتے تھی اور اس کی منفرد خصوصیات پہلے کبھی دوسرے ڈائنوسار میں نہیں دیکھی گئیں۔
پودے کھانے والے اس ڈائنوسار کا نام Uragasaurus kalasinensis ہے، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تقریباً 150 ملین سال پہلے زمین پر رہتے تھے، اس ڈائنوسار کی گردن غیرمعمولی طور پر لمبی تھی جس کی پیمائش 20 میٹر تک تھی جو تقریباً کرکٹ پچ جتنی لمبی ہو سکتی ہے۔
تھائی لینڈ کی مہاسراکھم یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اپیروت نیلپناپن کاکہناہے کہ یہ باقیات اسی جگہ سے ملی ہیں جہاں سے پہلی بار 2008 میں شناخت کی گئی تھی، اور ایک شخص کو ڈائنوسار کا ٹکڑا ملا تھا جس کی اطلاع پر اس جگہ کی مزید تلاشی لی گئی۔
دریافت کی جگہ Phu Noi، جراسک کے آخری دور کے فوسلز کی ایک وسیع رینج پر مشتمل تھی جہاں پر 90فیصد ڈائنوسار کی باقیات موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان ریلویز کا بلھے شاہ پسنجر ٹرین بحال کرنے کا فیصلہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تحقیق رواں ہفتے نیچر سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے جبکہ اس سے قبل مئی میں سائنسدانوں نے تھائی لینڈ میں پائی جانے والی باقیات سے ایک اور لمبی گردن والے سبز خور ڈائنوسار، ناگاٹیٹن کی دریافت کا انکشاف کیا تھا جو جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا ڈائنوسار ہے، جس کا وزن 27 ٹن اور لمبائی 27 میٹر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں