
(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے مجسٹریٹ کا ملزم کو کیس سے رہا کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے کہاکہ مجسٹریٹ ملزم کو “ریلیز” نہیں بلکہ قانون کے مطابق صرف “ڈسچارج” کر سکتا ہے، چالان میں ملزم کے خلاف بادی النظر میں شواہد موجود تھے، ٹرائل سے پہلے کیس ختم نہیں کیا جا سکتا، جسٹس عبہر گل خان نے شہری محمد عابد کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا ،عدالت نے ٹرائل کورٹ کو قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے پانچ صفحات کا فیصلہ عدالتی نظیر قرار دیدیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجسٹریٹ نے ٹرائل سے پہلے شواہد کا تفصیلی جائزہ لے کر اختیارات سے تجاوز کیا۔
گاڑی میں خیانتِ مجرمانہ کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیدیا گیا،لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو قانون کے مطابق دوبارہ کارروائی کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریری معاہدہ یا ملکیت کے تنازع جیسے نکات ٹرائل کے دوران طے ہوں گے، مجسٹریٹ کو صرف یہ دیکھنا تھا کہ ٹرائل کیلئے کافی مواد موجود ہے یا نہیں، لاہور ہائیکورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے 31 مارچ 2026 کا حکم نامہ کالعدم قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں:19، 22، 26 اور 29 جولائی کو کن علاقوں میں بجلی بند رہے گی؟ شیڈول جاری






