مولانا فضل الرحمن کا فاٹا ڈیجیٹل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب، قبائلی عوام کے حقوق اور مستقبل پر اہم گفتگو
وفاق جمعیت علماء اسلام کی جانب سے کنونشن کے انعقاد اور دعوت پر مولانا فضل الرحمن کا اظہار تشکر
مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک اور سرزمین اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے،
پاکستان کی سرزمین قوم کے ہاتھ میں امانت ہے، اس امانت کے لیے دیانت ضروری ہے،
دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم پاکستان کی حفاظت، خوشحالی اور ترقی کے لیے کوشاں رہیں،
قبائلی علاقوں کو ایک طویل عرصے سے تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے،
فاٹا کے حوالے سے جمعیت علماء اسلام کا ایک واضح سیاسی موقف تھا اور آج بھی ہے،
جمعیت علماء اسلام قبائلی علاقوں کے مسئلے کو سیاسی موقف اور زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھتی ہے،
ہم پاکستانی ہیں اور اس خطے کے فرزند ہیں، فاٹا کے مستقبل پر سوال اٹھانا ہمارا حق ہے،
قبائلی عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے،
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قبائلی عوام کے خدشات دور کرے اور ان کی تشفی کرے،
سیاسی سوالات کے جواب دینے کے بجائے ماحول کو الزام تراشی سے پراگندہ کیا جا رہا ہے،
جمعیت علماء اسلام اختلاف رائے رکھنے والی جماعت ہے، اختلاف کا جواب دلیل سے دیا جائے،
حکومتی شخصیات نے براہ راست اعتراف کیا کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا،
ملک کے نظام کو چلانے والوں نے فاٹا انضمام ختم کرکے سابقہ پوزیشن بحال کرنے کی بات کی ہے،
جب ہم نے فاٹا انضمام کے خلاف موقف اختیار کیا تو ہم پر الزامات لگائے گئے،
فاٹا انضمام کے وقت ہمارے موقف کا جواب دینے کے بجائے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا،
کل فاٹا انضمام کا فیصلہ کس بڑی قوت کے کہنے پر کیا گیا تھا؟
آج فاٹا کو دوبارہ وفاق کے زیر انتظام لانے کی کوششیں کس طاقت کے مفاد میں کی جا رہی ہیں؟
کل بھی فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ دوسروں کے مفادات کے لیے کیا گیا اور آج بھی یہی خدشات ہیں،
اپنی قوم کے مستقبل کے فیصلے دوسروں کے مفادات کے تابع کرنا غلامانہ ذہنیت ہے،
قوم کے مستقبل کے فیصلے کرتے وقت کم از کم شائستگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے،
فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرتے وقت جمعیت علماء اسلام نے زمینی حالات کو مدنظر رکھا،
ہمارا موقف تھا کہ اس وقت فاٹا کے حالات انضمام کے لیے موزوں نہیں تھے،
فاٹا کے عوام کے سیاسی اور آئینی مستقبل کا مسئلہ جمعیت علماء اسلام نے پہلے دن سے اٹھایا،
فاٹا انضمام کے دس سال مکمل ہونے جا رہے ہیں مگر بندوبستی نظام قائم نہیں ہو سکا،
دس سال گزرنے کے باوجود قبائلی علاقوں میں انتظامی نظام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوئے،
فاٹا میں پٹواری نظام آج تک مکمل طور پر قائم نہیں کیا جا سکا،
قبائلی عوام کی پرانی جائیدادوں کے مسائل اور تنازعات آج تک حل طلب ہیں،
قبائلی عوام کی جائیدادوں کی تقسیم اور ملکیت کے مسائل حل نہیں کیے جا سکے،
قبائلی علاقوں میں پولیس کا نظام بھی آج تک منظم نہیں ہو سکا،
قبائلی علاقوں میں انتظامی افسران بھی مشکلات کا شکار ہیں کہ معاملات کیسے چلائے جائیں،
دس سال بعد بھی فاٹا کے عوام کو وہ انتظامی سہولیات نہیں مل سکیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا،
آج فاٹا کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ آئینی حقوق کا بھی ہے،
فاٹا کے وسائل اور معیشت کا مستقبل آج بنیادی سوال بن چکا ہے،
قبائلی علاقوں کے وسائل اور معاشی حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،
فاٹا انضمام کے وقت کے حالات کو اسی دور کے تناظر میں دیکھا جائے،
آج کے حالات کا تجزیہ آج کے حقائق اور زمینی صورتحال کی روشنی میں ہونا چاہیے،
فاٹا کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے میں پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنا موقف پیش کر رہا ہوں،
گورنر راج سے پہلے بھی میں قبائلی علاقوں کے حالات پر اپنے خدشات کا اظہار کرتا رہا ہوں،
ایمرجنسی نافذ ہونے سے پہلے بھی میں نے فاٹا کے مستقبل اور عوامی حقوق کے حوالے سے آواز اٹھائی،
قبائلی عوام کے خدشات کو بروقت سننا اور ان کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے،
فاٹا کے عوام کے سوالات کو الزام تراشی کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا،
جمعیت علماء اسلام نے فاٹا کے مسئلے پر ہمیشہ دلیل اور سیاسی موقف کے ساتھ بات کی،
اختلاف رائے جمہوری حق ہے، اسے کردار کشی اور الزام تراشی سے ختم نہیں کیا جا سکتا،
فاٹا کے سیاسی مستقبل پر جمعیت علماء اسلام کے موقف کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے،
قبائلی علاقوں کے عوام کو اپنی سرزمین کے مستقبل کے فیصلوں میں شریک کیا جائے،
فاٹا کے عوام کے سیاسی، آئینی اور معاشی مستقبل کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا،
قبائلی علاقوں کے مسائل کا حل محض انتظامی فیصلوں سے ممکن نہیں،
فاٹا کے عوام کو آئینی حقوق اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے،
قبائلی علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ کسی بیرونی دباؤ یا طاقت کے مفاد میں نہیں ہونا چاہیے،
فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل پر جمعیت علماء اسلام نے پہلے بھی واضح موقف اختیار کیا تھا،
فاٹا انضمام کے نتائج اور دس سالہ تجربے کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے،
قبائلی عوام کے مسائل کو تسلیم کیے بغیر ان کے مستقبل کا درست فیصلہ ممکن نہیں،
فاٹا کے عوام کو وعدوں کے بجائے عملی طور پر انتظامی اور آئینی سہولیات فراہم کی جائیں،
قبائلی علاقوں میں بندوبستی نظام کے قیام میں ناکامی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے،
فاٹا کے عوام کی جائیدادوں اور زمینوں کے مسائل حل کرنا ناگزیر ہے،
قبائلی علاقوں میں پولیس اور انتظامی نظام کو مؤثر بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے،
فاٹا کے عوام کے معاشی مستقبل اور وسائل پر ان کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے،
قبائلی علاقوں کو سیاسی تجربات کے بجائے مستقل اور مؤثر نظام کی ضرورت ہے،
فاٹا کے مستقبل پر فیصلے کرتے ہوئے قبائلی عوام کی آواز کو مرکزی اہمیت دی جائے،
ریاست کو قبائلی عوام کے خدشات کا جواب دینا چاہیے، ان کی آواز کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے،
فاٹا کے مسئلے پر جمعیت علماء اسلام کا موقف کسی وقتی سیاسی مفاد پر مبنی نہیں تھا،
قبائلی عوام کے سیاسی اور آئینی مستقبل کے تحفظ کے لیے جمعیت علماء اسلام اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،
فاٹا کے عوام کے حقوق اور خدشات پر بات کرنا قومی ذمہ داری ہے،
قبائلی علاقوں کے مسئلے کو الزام تراشی کے بجائے سنجیدہ سیاسی مکالمے سے حل کیا جائے،
فاٹا انضمام کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والے مسائل پر حکمران جوابدہ ہیں،
قبائلی عوام کے لیے بندوبستی نظام، پولیس اور جائیدادوں کے مسائل کا حل اب مزید مؤخر نہیں ہونا چاہیے،
فاٹا کے عوام کے آئینی مستقبل پر فیصلے کرتے ہوئے ان کے حقوق کو مقدم رکھا جائے،
قبائلی علاقوں کے وسائل اور معیشت کے تحفظ کے لیے واضح پالیسی ضروری ہے،
فاٹا کے سیاسی مستقبل پر جمعیت علماء اسلام کے خدشات آج بھی اہمیت رکھتے ہیں،
قبائلی عوام کے مسائل کا حل ان کی آواز سننے اور ان کے خدشات دور کرنے میں ہے،
فاٹا کے عوام کے مستقبل پر فیصلے کرتے وقت ماضی کے تجربات سے سبق سیکھا جائے،
قبائلی علاقوں کو انتظامی بے یقینی سے نکال کر مؤثر نظام فراہم کرنا ضروری ہے،
فاٹا کے عوام کے حقوق اور وسائل کے تحفظ کو سیاسی مفادات کی نذر نہ کیا جائے،
قبائلی عوام کے سوالات کو سننا اور ان کے جواب دینا جمہوری طرز عمل ہے،
فاٹا کے مستقبل پر جمعیت علماء اسلام کا موقف عوامی حقوق کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے،
قبائلی علاقوں میں آئینی، انتظامی اور معاشی مسائل کا جامع حل ضروری ہے،
فاٹا کے عوام کے درپیش مسائل پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی،
قبائلی عوام کی تشفی اور ان کے خدشات کا ازالہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے،
فاٹا کے مسئلے پر سیاسی اختلاف کو دشمنی اور کردار کشی میں تبدیل نہ کیا جائے،
قبائلی علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ دلیل، مشاورت اور عوامی حقوق کی بنیاد پر ہونا چاہیے،
فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کو کسی طاقتور حلقے کے مفاد کے تابع نہیں کیا جا سکتا،
قبائلی علاقوں میں انتظامی نظام کی ناکامی پر سنجیدہ سوالات اٹھانا ضروری ہے،
فاٹا کے عوام کی زمینوں اور جائیدادوں کے مسائل حل کیے بغیر ترقی ممکن نہیں،
قبائلی علاقوں میں پولیس اور انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے،
فاٹا کے عوام کے وسائل اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں،
قبائلی عوام کے مستقبل پر فیصلے کرتے ہوئے ان کی سیاسی اور آئینی حیثیت کو نظرانداز نہ کیا جائے،
فاٹا کے عوام کے خدشات کو دور کیے بغیر انضمام کے نتائج پر اطمینان ممکن نہیں،
قبائلی علاقوں کے مسائل پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے،
فاٹا کے مستقبل پر جمعیت علماء اسلام کا موقف قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہے،
قبائلی عوام کے سیاسی مستقبل کے سوالات کو الزام تراشی سے دبانے کی کوشش نہ کی جائے،
فاٹا کے عوام کو اپنی سرزمین کے مستقبل پر اعتماد میں لینا ضروری ہے،
قبائلی علاقوں میں بندوبستی نظام، پولیس، جائیداد اور معیشت کے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں،
فاٹا کے عوام کے سیاسی اور آئینی مستقبل کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے،
قبائلی علاقوں کو تجربات کے بجائے حقوق، ترقی اور مؤثر انتظامی نظام دیا جائے،
فاٹا کے عوام کے سوالات، خدشات اور حقوق کو سنجیدگی سے لینا وقت کی ضرورت ہے،
فاٹا کے سیاسی مستقبل پر فیصلے کرنے سے پہلے قبائلی عوام کے تحفظات کا جواب دیا جائے،
قبائلی عوام کے وسائل، معیشت اور آئینی حیثیت کے مسائل کو ایک جامع پالیسی کے تحت حل کیا جائے،
جمعیت علماء اسلام قبائلی عوام کے سیاسی، آئینی اور معاشی حقوق کے لیے اپنا موقف دلیل کے ساتھ پیش کرتی رہے گی،






