
(بابر شہزاد تُرک)پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل، بائیوٹیکنالوجی اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں تاریخی تجارتی و صنعتی تعاون کا آغاز ہو گیا، دو روزہ پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی، کانفرنس کے دوران دونوں ممالک کے متعلقہ شعبوں کے درمیان مجموعی طور پر ایک ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے 22 معاہدوں اور 42 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
کانفرنس کی اختتامی تقریب میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وفاقی سیکرٹری صحت محمد اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) ڈاکٹر عبید اللہ ملک، پاکستان میں چین کے سفیر ژانگ ژیڈونگ، وفاقی و صوبائی حکام، پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کے رہنماؤں اور چین سے آنے والے 150 سے زائد صنعتی ماہرین اور مندوبین نے شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب اور بعد ازاں ملکی و غیر ملکی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کی کامیابیاں غیر معمولی ہیں اور یہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے نئے دور کا آغاز ثابت ہو گی، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان فارما سیکٹر میں بزنس ٹو بزنس تعاون نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور حکومت چینی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتی ہے، وفاقی وزیر نے بتایا کہ نئے معاہدوں کے تحت پاکستان میں میڈیکل ڈیوائسز، ویکسین اور روایتی چینی ادویات کی مقامی تیاری کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
پاکستان اس وقت 13 اقسام کی ویکسین درآمد کرتا ہے اور اگر مقامی پیداوار شروع نہ کی گئی تو 2030 تک ویکسین کی درآمدی لاگت 1.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، حکومت ملک کو ویکسین کی درآمد پر انحصار سے نکالنے کے لیے مقامی پیداوار کو ترجیح دے رہی ہے اور پاکستان کی پہلی قومی ویکسین پالیسی وفاقی کابینہ سے منظور کی جاچکی ہے، سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اپنی تقریباً 90 فیصد ادویات کا خام مال درآمد کرتا ہے، تاہم چینی کمپنیوں کے تعاون سے خام مال کی مقامی پیداوار کے لیے معاہدے کیے گئے ہیں۔
خام مال کی مقامی تیاری سے ادویات کی پیداواری لاگت اور قیمتوں میں کمی آئے گی اور اس کا براہ راست فائدہ پاکستانی عوام کو پہنچے گا، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیکل ڈیوائسز کی مقامی تیاری، کلینیکل ٹرائلز اور ووکیشنل ٹریننگ کے شعبوں میں بھی معاہدے کیے گئے ہیں، جن سے ٹیکنالوجی کی منتقلی، مہارتوں کے فروغ اور صنعتی ترقی میں مدد ملے گی، وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ ڈریپ کی 80 فیصد سے زائد خدمات ڈیجیٹلائز کی جاچکی ہیں، اب ادویات کے لائسنس کے لیے گھر بیٹھے آن لائن درخواست دی جاسکتی ہے اور ڈریپ پورٹل پر رجسٹریشن کے 20 دن کے اندر لائسنس ای میل کے ذریعے جاری کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فارما ریگولیشن کے شعبے میں عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہورہی ہے، عالمی ادارہ صحت نے پاکستانی لیبارٹریز کو پری کوالیفائی کیا ہے، جبکہ پاکستان ڈبلیو ایچ او لیول ٹو کے تحت 52 ممالک کو ادویات برآمد کررہا ہے۔ اپریل 2027 میں ڈبلیو ایچ او لیول تھری کی انسپیکشن متوقع ہے، جس کے حصول کے بعد مزید 100 ممالک کو ادویات برآمد کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔
وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ کانفرنس میں چین سے 170 وفود جبکہ پاکستان سے 300 سے زائد مقامی وفود شریک ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کے سفیر برائے چین خلیل ہاشمی، ایس آئی ایف سی، وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور وژن کے باعث یہ تاریخی کامیابی ممکن ہوئی، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے، فارماسیوٹیکل صنعت میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جدید ٹیکنالوجی پاکستان منتقل ہوگی اور فارما مصنوعات کی برآمدات میں اضافے سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو گا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت محمد اسلم غوری نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل اور صحت کے شعبے میں تعاون نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، کانفرنس کے دوران ہونے والی سرگرمیاں محض ملاقاتیں اور مذاکرات نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور مشترکہ عزم کا مظہر ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت نے سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدت اور ویلیو ایڈیشن کو دوطرفہ تعلقات کا اہم محور بنایا ہے۔
وزارت صحت اور متعلقہ ادارے سرمایہ کاروں کے لیے شفاف اور مؤثر ریگولیٹری ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، وفاقی سیکرٹری صحت نے کہا کہ کانفرنس کی کامیابی کا اصل معیار معاہدوں کی تعداد نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ادویات کی مقامی پیداوار، روزگار کے نئے مواقع اور دونوں ممالک کے عوام کی زندگیوں میں آنے والی بہتری ہوگی، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ ڈاکٹر عبید اللہ ملک نے بتایا کہ دونوں ممالک کے صنعتی رہنماؤں کے درمیان گزشتہ تین ماہ سے مسلسل رابطے جاری تھے، جبکہ کانفرنس سے قبل آخری 20 روز کے دوران 30 ورچوئل بی ٹو بی اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں پاکستان کی 100 سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی۔
ان اجلاسوں کا مقصد دونوں ممالک کی کمپنیوں کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے آگاہ کرنا اور عملی تجارتی معاہدوں کی راہ ہموار کرنا تھا، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ ڈاکٹر عبید اللہ ملک نے اختتامی بریفنگ میں بتایا کہ کانفرنس کے دوران ایک ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے 22 باقاعدہ تجارتی معاہدوں اور 42 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے، 22 تجارتی معاہدوں میں اے پی آئی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 35 ملین ڈالر مالیت کے 2، بائیوٹیکنالوجی اور ویکسین کے شعبے میں 360 ملین ڈالر مالیت کے 6، کلینیکل ٹرائلز اور کلینیکل ریسرچ میں 8 ملین ڈالر مالیت کے 2، جینیرک فارمولیشنز میں 19 ملین ڈالر مالیت کے 2 جبکہ میڈیکل ڈیوائسز کے شعبے میں 201.5 ملین ڈالر مالیت کے 10 معاہدے شامل ہیں۔
ڈاکٹر عبید اللہ ملک کے مطابق کانفرنس میں 216.7 ملین ڈالر مالیت کی 42 مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے، جن میں اے پی آئی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 74 ملین ڈالر مالیت کی 12، بائیوٹیکنالوجی اور ویکسین کے شعبے میں 104.05 ملین ڈالر مالیت کی 9، کلینیکل ٹرائلز اور کلینیکل ریسرچ کے شعبے میں 2، جینیرک فارمولیشنز میں 10 ملین ڈالر مالیت کی 2، میڈیکل ڈیوائسز کے شعبے میں 14.5 ملین ڈالر مالیت کی 8 اور ہربل میڈیسن کے شعبے میں 14.17 ملین ڈالر مالیت کی 9 مفاہمتی یادداشتیں شامل ہیں، وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صحت کے شعبے میں تجارتی اور تزویراتی اعتبار سے اتنا بڑا اتحاد قائم ہوا ہے، پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس سی پیک فیز ٹو کے عملی خدوخال کی بہترین مثال بن گئی ہے، اب دونوں ممالک کا تعاون صرف سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں تک محدود نہیں رہا بلکہ صحت، انسانی جانوں کے تحفظ اور جدید طبی صنعت کی ترقی تک پھیل چکا ہے، انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے دوران دونوں ممالک کے صنعتی رہنماؤں نے صحت کے شعبے میں تعاون کو نئی سمت دی، سیل لائن ڈویلپمنٹ، جدید بائیوٹیکنالوجی انجیکشنز کی مشترکہ پیداوار، مصنوعی اے پی آئی مینوفیکچرنگ، میڈیکل ڈیوائسز کی مقامی تیاری اور کلینیکل ٹرائلز سمیت متعدد منصوبوں پر معاہدے کیے گئے ہیں، ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے کہا کہ یہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں محض اعلانات نہیں بلکہ عملی سرمایہ کاری کا آغاز ہیں، چین سے 150 سے زائد صنعتی ماہرین کی پاکستان آمد پاک چین تعاون پر اعتماد کا اظہار ہے، پاکستانی فارماسیوٹیکل صنعت نے ثابت کردیا ہے کہ وہ روایتی ادویہ سازی سے آگے بڑھ کر عالمی معیار کی ہائی ٹیک صنعت بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ ریگولیٹری منظوری، پلانٹس کے لائسنس، اراضی کی فراہمی اور رجسٹریشن سمیت تمام امور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی نگرانی میں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں گے، انہوں نے پاکستانی صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ کانفرنس کے بعد فوری طور پر منصوبوں پر عملدرآمد شروع کریں تاکہ پاک چین تعاون کو صحت مند، خود کفیل اور خوشحال مستقبل میں تبدیل کیا جاسکے، کانفرنس کے اختتام پر بتایا گیا کہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایگزیکیوشن ڈیش بورڈ قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے دونوں ممالک کی متعلقہ کمپنیوں اور اداروں کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا، حکام کے مطابق پاک چین فارماسیوٹیکل تعاون کے تحت ہونے والے معاہدے پاکستان کو ادویات، ویکسین، طبی آلات اور فارماسیوٹیکل مصنوعات کی مقامی تیاری اور برآمدات کا علاقائی مرکز بنانے کی جانب اہم قدم ہیں، کانفرنس نے صحت کے شعبے میں سی پیک فیز ٹو کے عملی آغاز اور پاکستان میں جدید طبی صنعت، ٹیکنالوجی منتقلی، مقامی مینوفیکچرنگ اور روزگار کے نئے مواقع کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کردی ہے۔






