
(24 نیوز)سپین اور برطانوی زیرِ انتظام جبرالٹر کے درمیان سرحد ی بارڑ کو ختم کر دیا گیا ہے۔
نئےمعاہدے کے بعد دونوں کےدرمیان سرحدی آمدورفت کوآسان بنادیاگیاہے،اس اقدام کےتحت پرانی سرحدی رکاوٹوں اورچیکنگ کےنظام میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے
جس سےروزانہ سپین سےجبرالٹرکام کےلیےجانے والے ہزاروں افراد اورسیاحوں کو سہولت حاصل ہوگی۔
جبرالٹرکو یورپی شینجن نظام کےساتھ منسلک کردیاگیا ہے، تاہم اس کی برطانوی خود مختاری برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:بیرون ملک مقیم بھارتیوں کےجرائم میں اضافہ،امریکی قوانین میں بڑی تبدیلی کی تیاری
حکام کےمطابق یہ معاہدہ برطانیہ، یورپی یونین اوراسپین کے درمیان طویل مذاکرات کےبعد طے پایا۔
جبرالٹر اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے یورپ اور بحیرۂ روم کے خطے میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔
ہسپانوی وزیرِاعظم پیدروسانچیز نےجبرالٹرکی سرحدی باڑ ختم ہونے کو ایک تاریخی پیشرفت قراردیا اورکہا کہ یہ یورپ کی “آخری دیوار” کے خاتمے کےمترادف ہے۔
یہ اقدام یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان نئے معاہدے کے نفاذ کے بعد ممکن ہوا، جس سے بریگزٹ کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کم ہوں گے۔






