
(ویب ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ یا امن کے فیصلے کا اختیار صرف سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس ہے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد، سوئٹزر لینڈ اور عمان میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ اب آٹھ دن سے جاری امریکی حملوں کے تناظر میں اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کا فیصلہ عسکری اور سیاسی قیادت کی متفقہ رائے سے ہوا تھا۔ تمام فیصلے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی مشاورت اور ملکی آئین کے مطابق کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی فوجیوں کی ہلاکت، ٹرمپ کا ایران کےخلاف بھرپور کارروائی کا حکم
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے یورینیم کی افزودگی روکنے کے مطالبے اور فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد دوبارہ مذاکرات شروع کئے، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ ایران نے سفارتی آپشن کا بھرپور استعمال کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا قریبی ہوں۔ عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ میری مجتبیٰ خامنہ ای سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ عباس عراقچی نے بتایا کہ صرف چند لوگوں کو ہی مجتبیٰ خامنہ ای سے ملنے کی اجازت ہے۔






