
(24 نیوز)نیویارک میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں سپین نے ارجنٹائن کو0-1 سے شکست دے کر دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، اس سنسنی خیز اور سخت مقابلے کا اختتام نہ صرف کھیل کی حد تک جذباتی رہا بلکہ میچ کی آخری سیٹی بجتے ہی میدان میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان کشیدگی اور تلخ کلامی بھی دیکھنے کو ملی۔
Leandro Paredes should be banned from international football for life viciously assaulting Spanish players after the final whistle.
Indefensible thuggery and criminality. pic.twitter.com/aW5NMMIUXE
— Adam Schwarz (@AdamJSchwarz) July 19, 2026
رپورٹس کے مطابق میچ کے طے شدہ وقت اور اضافی وقت کے آخری لمحات میں میدان کا ماحول کافی گرم ہو گیا تھا، کھیل کے مقررہ 90 منٹ بغیر کسی گول کے برابر رہنے کے بعد میچ اضافی وقت میں داخل ہوا، اضافی وقت میں سپین کے متبادل کھلاڑی فیوران ٹوریس نے شاندار گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائی جو میچ کے اختتام تک برقرار رہی، اس گول کے ساتھ ہی سپین نے فتح پر مہر ثبت کر دی اور سپین نے سنسنی خیز مقابلے میں ارجنٹینا کو 0-1 سے شکست دے کر دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔
میچ کا فیصلہ اضافی وقت میں ہوا، جہاں سپین کے متبادل کھلاڑی فیران ٹوریس نے واحد اور فیصلہ کن گول سکور کیا۔
مزید پڑھیں:سپین کے سپر سٹار لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ چند سیکنڈز نے دنیا کی توجہ کھینچ لی
میچ ختم ہونے کی سیٹی بجتے ہی، جیسے ہی سپین کے کھلاڑی جیت کا جشن منانے کے لیے میدان میں داخل ہوئے، ارجنٹائن کے مڈفیلڈر لیاندرو پریڈیس نے سپین کے کھلاڑی گاوی کو دھکا دے کر زمین پر گرا دیا، جس کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑی آمنے سامنے آگئے اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان ہاتھا پائی اور دھکم پیل شروع ہو گئی۔
صورتِ حال مزید خراب ہونے سے پہلے ارجنٹائن کے ہیڈ کوچ لیونیل اسکالونی نے مداخلت کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو پرسکون کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد صورتحال قابو میں آگئی۔
ارجنٹائن کے مڈفیلڈر لیاندرو پریڈیس کے رویے پر سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا، رپورٹس کے مطابق، اس واقعے پر لیاندرو پریڈیس کو براہ راست ریڈ کارڈ دکھایا گیا، سوشل میڈیا پر کئی صارفین اور بعض مبصرین نے ان کے رویے کو غیر کھیلوں کے جذبے کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی، جبکہ کچھ افراد نے ان پر بین الاقوامی فٹبال سے تاحیات پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔






