
موسمیاتی تبدیلیوں کی روک و تھام کے لیے اقدامات کرنا دنیا کے ہر ملک کا مسلہ بن چکا ہے ،پرانے وقتوں میں یہ حکومت کا سبجیکٹ ہی نہیں تھا لیکن وقت کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے اور حکومت نے بھی پہلے ہی کمر کس لی ہے لیکن ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجوہات کو تلاش کر کے ان کا حل نکالنا ہے ۔
کلائمیٹ واچ” کے قیام، اس کی ورکنگ، سموگ میٹیگیشن اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے حکومت کے جامع اقدامات پر سائنسی بنیادوں، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور ڈیٹا پر مبنی ماحولیاتی گورننس کا مؤثر نظام قائم کر دیا گیا ہےجس کے نتائج تب سامنے آئیں گے جب سموگ اور موسمیاتی تبدیلیاں شروع ہوں تو کیا سکول بند ہوتے ہیں یا نہیں ۔
پاکستان میں سموگ کا مسلہ چند سالوں سے شدت اختیار کر گیا ہے سموگ کے مسئلہ پر مربوط مانیٹرنگ سسٹم موجود تھا، نہ ہی ڈیٹا تھا۔ حکومتیں سموگ کو صرف تین ماہ کے موسمی مسئلہ کے طور پر لیتی تھیں منصوبہ بندی بھی کم عرصہ کے لیے متعین ہوتی تھی موجودہ حکومت نے سال بھر جاری رہنے والے ماحولیاتی چیلنج کے طور پر لے کر مستقل اور پائیدار حکمت عملی اختیار کی گئی ہے ڈیٹا بیس لائن تیار کی گئی ساتھ ہی ہر شعبے کے فضائی معیار (اے کیوآئی) پر اثرات کی مسلسل نگرانی کی جاری ہے۔
گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے بھی متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں ماضی میں بیرونی آلودگی کے ساتھ مقامی آلودگی بھی صورتحال کو مزید خراب کر دیتی تھی، تاہم حکومت نے مقامی آلودگی میں نمایاں کمی کے لیے مؤثر اقدامات کر کے مستقبل میں اس سے نجات دلانے کی کوشش کی ہے پنجاب میں فضائی آلودگی میں تقریباً 33 فیصد جبکہ مقامی آلودگی میں 60 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ ان اقدامات سے عملی طور پر فضائی آلودگی کم ہو گی یا کہ نہیں ماحولیات کی مکمل ری اسٹرکچرنگ کی گئی ہے۔ ایک ہزار اہلکاروں پر مشتمل ملٹی سیکٹورل، ٹیکنالوجی سے لیس انوائرمنٹل پروٹیکشن فورس قائم کی گئی ۔
سموگ وار روم، ڈیجیٹل انفورسمنٹ ایکو سسٹم، کوئیک رسپانس سسٹم اور لائیو ڈیش بورڈ کے ذریعے کارروائیوں کی نگرانی بھی ہو تی ہے حکومت قبل از وقت بہتر طریقے اختیار کرکے بہتر حکمت عملی ترتیب دینا چاہتی ہے جس سے کم سے کم نقصانات ہو سکیں نچلی سطح تک آگاہ مہم اور عوام میں شعوری حربے بھی استعمال کرنے کی ضرورت ہے تحصیل سطح پر بلکہ یونین کونسل کی سطح پر آگاہی سیمینارز ہوں تاکہ عوام میں شعور بیدا کیا جا سکے کہ فضائی آلودگی میں کمی لانے کے لیے ان کا کیا کردار ہونا چاہیے ۔
13 ہزارسے زائد صنعتی یونٹس اور چمنیوں کو کیو آر کوڈز کے ذریعے ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرکے دھویں کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چمنی سے نکلنے والے دھویں کی عوامی شکایات کے ازالے کے لیے 1373 ہیلپ لائن، واٹس ایپ چیٹ بوٹ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی فعال ہو گئے ہیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ ایسا لائحہ عمل یقینا بہتر نتائج کا حامل ہو سکتا ہے
دھویں پر قابو پانے کے لیے تمام اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جا چکا ہے بھٹوں کی میکانائزیشن سے چائلڈ لیبر سمیت دیگر مسائل کے خاتمے میں بھی مدد ملی ہے۔لیکن شعوری سوچ تبدیل کرنا ہوگی اور فضائی آلودگی کے نقصانات سے آگاہی سب سے اہم ہے رہائشی علاقوں سے فیٹ میلٹنگ یونٹس اور پائرولائسز پلانٹس کا خاتمہ کر کےمقامی آبادیوں کے لیے آسانی پیدا کی گئی ہے ان کےخلاف پنجاب بھر میں مسلسل کریک ڈاؤن حکومتی حربہ ہے ۔
ہاسپٹل ویسٹ سے بچنے کےلیے ہسپتالوں کے انسینیریٹرز، صنعتی یونٹس، فیٹ میلٹنگ یونٹس پائرولائسز پلانٹس، نالوں اور ویسٹ واٹر کے اخراج کے مقامات کی مکمل میپنگ کی جا چکی لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ سمیت بڑے شہروں کے رہائشی علاقوں سے صنعتوں کی مرحلہ وار منتقلی بھی اچھا اقدام ہے۔لیکن حکومت کو اس میں مشکلات ہیں صنعتی علاقوں میں ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی بھی جاری ہے فیوجیٹو ڈسٹ کنٹرول، تعمیراتی مقامات پر واٹر سپرنکلرز، سڑکوں پر ڈسٹ کنٹرول اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا ۔
ہر ترقیاتی منصوے میں ایک فیصد شجرکاری اورماحول کے تحفظ کےلیے رکھا جاتا ہے۔ فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے اس وقت پنجاب میں 7,200 سپر سیڈرز کام کر رہے ہیں جن کی تعداد رواں سال بڑھا کر 15 ہزار کی جائے گی۔ عملی طور پر جب نتائج سامنے آئیں گے تو پتہ چلے گا ان مشینوں پر حکومت پنجاب 60 فیصد سبسڈی فراہم کر رہی ہے ۔ دیہاتوں میں مڈ جلانے کا رواج عام ہو چکا ہے جس سے فضائی الودگی میں اضافہ ہوتا ہے اس کی سزا مقرر ہونی چاہیےجدید ہارویسٹنگ ٹیکنالوجی کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دے کر اسٹبل برننگ کو روکا جاسکتا ہے۔
صوبے میں 1,500 الیکٹرک گرین بسیں چلنے سے سفری نظام آسان ہو چکا ہے ان کی تعداد 3,000 تک کرنے کا منصوبہ بھی ہے اوپن لیبارٹریز کے ذریعے فیول ٹیسٹنگ بھی آبادی کے فائدہ کا حصہ ہے۔۔تقریباً 6 لاکھ کلوگرام پلاسٹک کو ری سائیکل کرکے فرنیچر اور بینچ تیار کیے جا رہے ہیں۔ صوبے بھر میں 5 کروڑ 20 لاکھ سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں 6 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر شجرکاری کی گئی ہے۔
لاہور گرین رنگ, لنگز اف لاہورمیں ٹری پلانٹیشن، ہڈیارہ ڈرین کی بحالی،فارسٹ فائرست بچنےکےلیے جرمن کا فائر ڈیٹیکشن سسٹم، فارسٹ فورس اور جنگلات کے تحفظ کے دیگر منصوبے فضائی آلودگی کی کمی میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ کلائنیٹ چینج پالیسی سے موسمیاتی تبدیلیوں کا سد باب بھی ممکن ہو سکے گا کلائمیٹ آبزرویٹری قائم کرنے سےپنجاب بھر میں 59 جدید اے کیو آئی مانیٹرز نصب کیے جا چکے جن کی تعداد بڑھا کر 100 تک کی جانی ہے لاہور میں بھی 10 جدید مانیٹرز فعال ہیں۔ “اے کیو آئی پنجاب” موبائل ایپ کے ذریعے شہری رئیل ٹائم اے کیوائی,فضائی معیار، ہر گھنٹے کی صورتحال اور آئندہ چھ روز کی پیش گوئی دیکھ سکتے ہیں۔ جس سے ان کو اندازہ بھی ہو سکتا ہے کہ انھوں نے احتیاطی تدابیر کیسے اپنانی ہیں ؟اس کے ساتھ ہی عوام کو ہیلتھ ایڈوائزری سے بھی مدد مل سکتی ہے ۔
حکومت نے ہیٹ ویو کو بھی کلائمیٹ واچ کے مینڈیٹ میں شامل کر لیا ہے۔ پچاس ہزار سرکاری سکولوں میں ویس سیگریگیشن بنز نصب کرن کا منصوبہ ہے گرین سکول پروگرام کے ذریعے طلبہ میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنابھی بہتری کی طرف اہم قدم ہے۔ گرین کریڈٹ پروگرام کے تحت شہری دس کلوگرام پلاسٹک جمع کرا کے دس ہزار روپے تک گرین کریڈٹ حاصل کر سکتے ہیں کلائمیٹ لیڈرشپ انٹرن شپ پروگرام بھی نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے مثبت قدم خیال کیا جا رہا ہے 15 سموگ گنز کام کر رہی ہیں جن کی تعداد بڑھا کر 30 کی جانی ہے۔ کاہنہ میں کامیاب مسٹ آپریشن اس ٹیکنالوجی کی مؤثریت کا عملی ثبوت ہے۔
حکومت کی تمام تر توجہ مقامی آلودگی کے ذرائع پر قابو پانے پر مرکوز ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ سموگ سیزن کے دوران سکول بند کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی سانس کی بیماریوں کے باعث ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں تقریباً 14 لاکھ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
سموگ کے خاتمے کے لیے 12 محکمے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں ان میں زراعت ‘تعلیم ‘جنگلات’صحت اور دیگر شعبہ جات شامل ہیں فضائی آلودگی اور سموگ کا خاتمہ محکموں کی مشترکہ حکمت عملی اور جذبہ سے ممکن ہوگا۔ماحولیاتی تحفظ، سموگ کے تدارک اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط، سائنسی، شفاف اور ڈیجیٹل نظام قائم کرنا وقت کی ضرورت تھی جس کے مثبت اثرات عوام کی صحت، ماحول اور مستقبل پر نمایاں طور پر مرتب ہوں گے حکومتی اقدامات اور حکمت عملی کا اگر تجزیہ کیا جائے تو اس میں مثبت پہلو نظر آتے ہیں لیکن فضائی آلودگی کے خاتمہ اور سموگ کو کم کرنے کے منصوبے یورپی اور ترقی یافتہ ممالک میں کامیابی سے چل رہے ہیں اور حکومتی حکمت عملی کا یہ منصوبہ بھی ترقی یافتہ اور یورپی ممالک کا عکس لگتا ہے






