
(24 نیوز )سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے داخلہ(Senate Committee Interior) کے اجلاس کے دوران سینیٹ ایمپلائز ہائوسنگ کارپوریشن کا معاملہ اُٹھایا گیا جس پر کمیٹی نے ایف آئی اے سے اس حوالے سے تفصیلی استفسار کیا ، ایف آئی اے نے آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی یقین دہانی کرا دی ۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینٹ کی سوسائٹی بنائی گئی، سینٹ ملازمین نے پیسے بھی دیئے،اگر کسی نے سینٹ سوسائٹی کو ذاتی جاگیر بنا لیا ہے تو اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہمیں کم از کم اپنے ملازمین کو تحفظ تو دینا چاہئے، انھوں نے کہا کہ ہماری عدلیہ کا عالمی رینکنگ میں سب سے کم درجہ ہے،ہماری عدلیہ پر بڑے سوالات ہیں،تین ماہ ہو گئے ہیں ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینٹ ہاوسنگ سوسائیٹی سینٹ ملازمین کے لئے بنائی گئی تھی،مگر ایک پرواہیوٹ شخص جو سینٹ کا ملازم بھی نہیں، اس نے قبضہ کر رکھا ہے،بیس سال ہو گئے ہیں کسی ملازم کو ابھی تک پلاٹ نہیں مل سکے، سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایف آئی اے اگر ہدایت پر عمل نہیں کرتی تو کمیٹی ختم کر دیتے ہیں۔
کنوینئیر کمیٹی نے ایف آئی اے حکام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے اس معاملے کی انکوائری کا حکم دیا تھا اس پر کیا ہوا ،اس پر کاروائی چاہیے، شیر علی پر کیا کاروائی کی ہے ؟زمین کتنی ہے ؟ملازمین کہاں جائیں۔
ایف آئی اے نے اپنے جواب میں کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر تمام ہاوسنگ سوسائٹیز کا آڈٹ کیا ،اگر کمیٹی کو سوسائٹی کا ڈیٹا چاہیے تو مہیا کر دیا جائے گا، سوسائٹی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،آئندہ اجلاس میں آپ کو آگے کی کارروائی کی رپورٹ جمع کر دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں :جوڈیشل کمیشن نے4ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دے دی






