3

فرانس اور اسپین میں صورتحال سنگین ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور

(24 نیوز)فرانس اور سپین کے جنگلات میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی ہے جس کے باعث دو لاکھ سے زائد افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔

 دونوں یورپی ممالک میں یہ آگ اتنی تیزی اور شدت کے ساتھ پھیلی ہے کہ انتظامیہ اور فائر فائٹرز کے لیے اس پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

 مسلسل گرمی کی لہر اور موسمیاتی تبدیلیوں کو اس ہولناک صورتِ حال کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

فرانس میں صورتِ حال اس قدر نازک ہو چکی ہے کہ ساحلی علاقوں سے لوگوں کو نکلنے کے لیے کشتیوں کا سہارا لینا پڑا ہے۔

 فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد کا انخلا کرایا گیا ہے۔

فرانس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ کی سمت تبدیل ہو گئی ہے اور اب یہ ملک کے ایک بڑے اہم شہر بورڈو کی طرف بڑھ رہی ہے۔

فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون نے صورتِ حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومتی بحران سے نمٹنے والے شعبے کو متحرک کر دیا ہے۔

 فوج کو بھی امدادی کاموں میں سول انتظامیہ کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش میں گیس کی قلت، فلنگ اسٹیشنز پرگاڑیوں کی لمبی قطاریں

 حکام کے مطابق اس آگ کی وجہ سے اب تک درجنوں فائر فائٹرز زخمی ہو چکے ہیں۔

 تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

 ابتدائی معلومات کے مطابق فرانس میں آگ لگنے کی وجوہات حادثاتی معلوم ہوتی ہیں۔

دوسری جانب سپین میں بھی حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔

 حکومت نے پہلی بار جنگل کی آگ کے باعث قومی ہنگامی حالت یعنی نیشنل ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں