10

دوسری پاک۔ایران ٹرانسمیشن لائن پر جلد کام شروع کیا جائے گا رضا امیری مقدم

 (اویس کیانی) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان توانائی، تجارت اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر  تبادلۂ خیال کیا گیا۔  

 ایرانی سفیر نے کہا کہ  دوسری پاک۔ایران ٹرانسمیشن لائن پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔ موجودہ 100 میگاواٹ بجلی فراہمی کے معاہدے میں توسیع کی تجویز زیرِ غور ہے۔

 ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے بتایا کہ تہران میں مشترکہ کمیشن اجلاس میں پاکستانی توانائی کمپنیوں کو مدعو کیا جائے گا۔ سی پی پی اے-جی، کیسکو اور این جی سی کی تکنیکی ٹیموں کو تہران مدعو کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔

ملاقات میں زرعی اور غذائی شعبوں میں پاکستان اور ایران کے تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ بجلی کی ادائیگیوں کا موجودہ طریقۂ کار اطمینان بخش ہے۔ 

 اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ  خطے میں امن اور استحکام ہی دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ عالمی جنگی صورتحال سے توانائی کی قیمتیں متاثر ہوئیں، پاکستانی عوام نے بھی اثرات برداشت کئے۔  جنگی حالات میں بھی ایران کی جانب سے بجلی کی مسلسل فراہمی قابلِ تحسین ہے۔

 اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ پاکستانی ماہرین ایران جا کر بجلی کے نظام اور نیشنل گرڈ کا جائزہ لیں گے۔  گوادر کی ترقی کے لیے مستحکم، قابلِ اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی ناگزیر ہے۔ 

وفاقی وزیر نے  گوادر میں بجلی کے نظام کی پائیداری اور پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔  انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایران سے بجلی کی فراہمی اور دوطرفہ بجلی تجارت کی اہمیت مزید بڑھے گی۔ قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری اور دوطرفہ بجلی تجارت مستقبل کی ضرورت ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ عوام کو مناسب نرخوں پر بجلی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

ملاقات میں ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا کہ  وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امن کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔

ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ  پاکستان اور ایران کے تعلقات مزید مستحکم ہوئےہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 4 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف ہے۔  ایرانی سفیر نے کہا کہ بحری راستوں کی بندش کے باوجود  ایران نے پاکستان کی تجارتی ضروریات پوری کیں۔

 ایرانی سفیر نے بتایا کہ ایران اپنی تجارت کا بڑا حصہ پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے منتقل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

 ایرانی سفیر اور پاکستان کے وزیر توانائی کی ملاقات میں  توانائی سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان اور ایران کا تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھیئے: بھارت کے بہت بڑے صحافی کو ریپ کے جرم میں دس سال قید کی سزا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں