
(ویب ڈیسک) تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر خان نے نئے صوبوں کی تشکیل کی تجویز کی حمایت کردی۔
ایک نیوز چینل کے اینکر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نئے صوبوں کی ضرورت ہے اور اس کے لیے وسیع اتفاق رائے کی بھی ضرورت ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نئے صوبوں کے حق میں اسمبلیوں کی دوتہائی اکثریت کی حمایت ہونی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ شہباز شریف کا وزیراعظم کی حیثیت سے 5 سال پورے کرنا مشکل ہے۔
خراب گورننس کی بہتری کیلئے نئے انتظامی یونٹس کی تجویز پر موجودہ بحث
پاکستان میں طویل عرصہ سے زیادہ انتظامی یونٹ بنا کر گورننس کو بہتر بنانے کی بحث موجود رہی ہے جو آج کل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے پاکستان اکنامک فورم میں گورننس کے کولیپس اور نئے انتظامی یونٹ بنانے کی ضرورت پر گفتگو کرنے سے ایک بار پھر عوام اور ماہرین کی گفتگو کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اگر بیک وقت سارے صوبوں کی تشکیل نو کرنے کی کسی تجویز کو آئین کی موجودہ پرویژن کے تحت رو بہ عمل لانا ہو تو اس کے لئے چاروں صوبائی اسمبلیوں اپنے اپنے متعلق تجویز، اور قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دو تہائی اکثریت کی تمام تجاویز پر حمایت حاصل ہونا ضروری ہے۔
اس موضوع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما اور وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اسی نیوز چینل کے اسی اینکر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئے صوبوں کی تشکیل اگر آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے کی جائے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: اگر آئین کے اندر رہ کر نئے صوبے بنائیں جائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ، رانا ثنا اللہ
یہ بھی پڑھیں: نئے انتظامی یونٹ واحد حل ،موجودہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے؛ محسن نقوی
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بار کونسل کی محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبوں، انتطامی یونٹس کے قیام کی حمایت
یہ بھی پڑھیں: ہم محسن نقوی کی نئے صوبوں والی بات کی تائید کرتے ہیں، مصطفیٰ کمال






